اشعار ترے کم نہیں کچھ لعل و گہر سے

حافظؔ کرناٹکی
دارالحافظ، جے نگر شکاری پور
ضلع شیموگہ، کرناٹک577427-
ریاست کرناٹک میں ایسے کئی شعرا ہیں جنہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق استادی شاگردی کی روایت کو استحکام بخشا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے شعرا میں سے کئی اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے ہی ہر دل عزیز شاعر گوہر تریکیروی صاحب بھی تھے۔
گوہر تریکیروی صاحب ایک فعال شخصیت تھے، وہ چوں کہ معلمی کے پیشے سے وابستہ تھے، اس لیے ان کا حلقہ کافی وسیع تھا۔ اس پر سے طرّہ یہ کہ وہ ایک اہم شاعر بھی تھے اور فن شاعری سے بھی واقف تھے اس لیے ان کا حلقہ اساتذہ برادری سے لے کر ادبی برادری تک پھیلا ہوا تھا جس میں ریاست کے اہم علماء کرام بھی شامل تھے۔
سچ پوچھیے تو گوہر تریکیروی ایک سنجیدہ قلم کار اور شاعر تھے۔ انہیں نظم و نثر دونوں سے دلچسپی تھی۔ شاعری میں بھی وہ نظم و غزل دونوں پر طبع آزمائی کرتے تھے، مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی پہلی پسند غزل تھی، وہ رواروی میں شاعری کرنے کے قائل نہیں تھے، وہ ڈوب کر شعر کہا کرتے تھے اسی لیے ان کے اشعار، نظمیں، اور ان کی غزلیں براہ راست قارئین سے اپنا رشتہ استوار کرلیتی تھی۔ ان کے اب تک تین شعری مجموعے ”متاع گوہر“، ”گوہرمزگاں“اور ”قندیل نو“ شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی ایک سوانحی کتاب ”یادرفتگاں“کے نام سے بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہے۔ یہ کتاب ریاست کی مشہور فنکارہ حسنیٰ سرور کی شخصیت اور فن سے متعلق ایک حوالہ جاتی کتاب ہے۔ریاست کرناٹک میں ایسے شعرا یقینا کم ہوئے ہیں جن کے رشتوں اور رابطوں کا دائرہ ہمہ گیر ہو۔ سید منظور احمدنے گوہر تریکیروی صاحب کی شخصیت اور شاعری پر بھرپور مضمون لکھا ہے۔ ان کے مضمون سے بہت ساری باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے مضمون کے کچھ اجزا ملاحظہ فرمائیے؛
”گوہر تریکیروی ایک صاحب ذوق استاد ہیں۔ پیشہئ معلمی کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ لیکن انہیں ناگفتہ بہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر وہ پوری دل جمعی اور لگن کے ساتھ ۳۳/سال ریاست کے مختلف مقامات پر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ طلبا کے ساتھ ان کا رویہ مخلصانہ اور مشفقانہ رہا۔ ان کے کئی شاگرد ریاست کے مختلف کالجوں اور ہائی اسکولوں میں برسرروزگارہیں۔ بہت سارے شاگرد سرکاری حکام کی حیثیت سے بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کے شاگردوں میں علمائے کرام بھی شامل ہیں۔ ان کے نامور شاگردوں میں مولانا ریاض الرّحمان رشادی مرحوم، سابق خطیب و امام جامعہ مسجد بنگلور سیٹی۔ جناب سی آر صغیرسابق وزیرکرناٹک۔ جناب حفیظ اللہ شریف، سابق سکریٹری حج کمیٹی بنگلور۔ جناب ڈاکٹر افروز پاشا، صدر شعبہ اردو بھوم ریڈی کالج بیدر قابل ذکر ہیں۔“
سید منظور احمد صاحب کا یہ مضمون گوہر تریکیروی صاحب کی نئی کتاب ”قندیل نو“ میں شامل ہے۔انہوں نے گوہر صاحب کے بارے میں اپنے اس مضمون میں بہت ساری معلومات فراہم کی ہیں۔ان معلومات کی روشنی میں بلاتکلف یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ گوہر تریکیروی صاحب کی شخصیت با اثر تھی۔ وہ صاحب رسوخ لوگوں میں اپنی مستحکم پہچان رکھتے تھے۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ جہاں گوہر صاحب کے شاگردان کا ہر طرح خیال رکھتے تھے وہیں گوہر صاحب بھی اپنے استاد حضرت عبدالواسع عصری چک منگلوری کا بھی بے حدا حترام کرتے تھے اور ان کا ذکرہمیشہ احترام و عقیدت کے ساتھ کرتے تھے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ گوہر تریکیروی صاحب صرف نام کے مدرس نہیں تھے، انہیں شعبہ تدریس سے عشق تھا۔ وہ بچوں کو لائق و فائق بنانے کو قومی اور ملّی خدمت سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ اس پیشے کا بے حداحترام کرتے تھے۔ اور اپنی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کرتے تھے۔ ان کی اسی طرح کی خوبیوں کو دیکھ کر اساتذہ کی انجمن نے انہیں بہترین استاد کے اعزاز سے نوازاتھا۔ اور یہ اعزاز انہیں اس اس وقت کے وزیراعلیٰ جناب رام کرشنا ہیگڈے کے ہاتھوں پیش کیا گیاتھا۔
اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کرناٹک میں ایسا فنکار بہت کم ملے گا جس نے شاعری اور تدریس دونوں کی تقدیس کو برقرار رکھ کر اپنی انفرادیت کا ثبوت پیش کیا تو غلط نہ ہوگا۔ انہوں نے ایک طرف اپنی شاعری اور اپنے قلم سے وفاداری کا ثبوت پیش کیا تو دوسری طرف اپنے پیشہ ورانہ تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی مثال قائم کی۔ رہی ان کی شاعری کی بات تو اس میں بھی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ایک قادرالکلام شاعر تھے۔ جیسا کہ ریاست کے ایک بزرگ مرحوم شاعر شیدا رومانی نے لکھا ہے کہ؛
”گوہر صاحب ایک قادرالکلام شاعر ہیں، زبان و بیان پر کافی عبور حاصل ہے۔ انہوں نے غزل کے کلاسیکی اسلوب کو اپنی شاعری کا محور بنالیا ہے۔ ویسے انہیں صحت مند جدیدیت سے ہرگز انکار نہیں۔ لیکن جدیدیت کے نام پر شعر کو پہیلی یا چیستاں بنانا انہیں قطعی پسند نہیں۔ اس لیے فرماتے ہیں؛
کھلے مفہوم کو الجھا رہے ہو استعاروں میں
دلوں کی بات ظاہر ہو نہیں سکتی اشاروں میں
دلوں کی تختیوں پر نام کندہ ہے ہمارا بس
تمہارا نام اچھالا جارہا ہے اشتہاروں میں
شیدا رومانی کی باتوں کی تائید گوہر تریکیروی صاحب کی شاعری سے بھی ہوجاتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے؛
تھیں بھنور میں کشتیاں ملاح گھبراتے رہے
اور ساحل پر تماشائی بھی چلاتے رہے

شاخ نازک پہ نشیمن بھی گراں ہے کہ نہیں
تاک میں پھر سے نئی برق تپاں ہے کہ نہیں

جن کی نظر میں وقعت مال و منال ہو
ان کی نظر میں قیمت فصل و کمال کیا؟

کلی کے لب پہ تبسم ہے دلنواز مگر
گلوں سے پوچھیے انجام مسکرانے کا

کیا خبر تھی ہم کو یہ بجلیوں کا مسکن ہے
ہم نے جس گلستاں میں آشیاں بنائے ہیں
ان اشعار کے دیکھنے سے صاف اندازہ ہوتا ہے۔ گوہر صاحب شاعری کے نام پر علامت و استعارے اور ایجاز و اختصار کے چکر میں کبھی نہیں پڑتے تھے۔ وہ یہ مان کر چلتے تھے کہ شاعر جو بھی بات کہتا ہے اس کا مقصد ہوتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والا اسے آسانی سے سمجھ لے تا کہ شاعر کا پیغام عوام تک پہونچ جائے، اس لیے گوہر صاحب نہایت سادگی سے اپنی بات اس انداز میں کہہ دیتے تھے کہ دل سے نکلی اور دل میں اتری والا محاورہ صادق آجاتا تھا۔ زندگی کے سنگین مسائل ہوں، سیاست کی چالیں ہوں، حالات کی ستم ظریفی ہو، معاشرے کی بگڑتی صورت حال ہو، ملّت کے شیرازے کا بکھراؤ ہو یا پھر غزل کے خاص موضوعات، حسن، عشق، درد، فراق، محبوب، رقیب کا ذکر ہو، وہ ساری باتوں کو بغیر لاگ لپیٹ کے اپنی شاعری کے کے پیرہن میں ڈھال دیتے تھے۔ اس طرح وہ اپنے قارئین سے براہ راست رشتہ بنالیتے تھے۔ ان کی شاعری کے سمجھنے کے لیے کبھی کسی تیسرے آدمی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اتنی اپنائیت خلوص اور سادگی کے ساتھ اپنی باتوں کو فن کے پیراہن میں پیش کرنا بغیر ریاضت کے ممکن نہیں ہے اور نہ زبان و بیان پر قدرت کے بغیر خود اظہاریت کی سبیل کو روشن کرپانا آسان ہے۔ اس طرح اس بات کے ماننے میں کسی کو تردد نہیں ہوناچاہیے کہ گوہر صاحب ایک باکمال شاعر تھے۔ ایسے باکمال شاعر کے وہ زندگی کے کسی بھی موضوع کو اپنی شاعری میں ڈھال سکتے تھے وہ بھی کسی بھی طرح کی کرتب بازی، اور زبان و بیان کی دبازت کے بغیر۔ ایسا نہیں کے ان کے کلام میں اچھے اور براہ راست قاری تک پہونچ جانے والے اشعار تلاش کرکے نکالنے پڑتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ان کی پوری شاعری اسی طرح کے اشعار کی مخزن ہے۔ چند اور اشعار دیکھئے؛
گمراہی سے ملّا کی بھٹکے ہیں حرم والے
ساقی کی عنایت سے محفوظ ہیں میخانے

پیار بھی بھیک میں دینے سے وہ کتراتے ہیں
ہم نے اخلاص و محبت کی سخاوت کی ہے

روح کا رشتہ ہے جب تک نبض کی رفتار سے
بے رخی برتو نہ ہرگذ طالب دیدار سے

اب ہم کو عمر رفتہ کا احساس ہو گیا
آثار جب بڑھاپے کے بالوں میں آگئے

انقلاب آئے ستاروں کے جہاں میں لیکن
چھوڑ کر چاند کا پہلو کبھی تارا نہ گیا

ذلت کا طوق ڈال کے گردن میں کیا پھریں
کم ظرف دوستوں کے نہ احساں اٹھائیں گے
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان اشعار میں زندگی کے گونا گوں مسائل بیان کیے گئے ہیں مگر اس طرح نہیں کہ پڑھنے والا کچھ سمجھے اور نہ سننے والا شاعر کی نیت جب صاف ہوتی ہے۔ اور اس کے اندر حق بولنے کی طاقت ہوتی ہے تو وہ اپنی باتوں کو پردوں میں چھپا کر نہیں بلکہ لفظوں کی دھڑکنوں میں بسا کراسی طرح صاف ستھرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے ان کے دل کا درد صاف چھلکتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ قوم و ملّت کی حالت زاردیکھ کر اور دوستوں اور اپنوں کی ریابھری محبتوں کے تیر کھاکھا کر شاعر کادل زخموں سے چور ہوگیا ہے۔ اس لیے اس کے انداز اور لہجے میں کبھی کبھی طنز اور تیکھاپن بھی پیدا ہو جاتا ہے مگر شاعر کا خلوص سب کچھ گوارا بنادیتا ہے۔ اور قاری بدحظ ہوئے بغیر اس کا کلام خوش دلی سے پڑھ لیتا ہے۔ ایک ایسا شاعر جو اپنے سماج سے پوری طرح جڑا ہوا ہو۔ جو اپنے معاشرے کی اچھائی اور برائی کو جانتا ہو۔ جس کا دل اپنے ملک اور اپنی ملّت کے لیے دھڑکتا ہو، جس کے دل میں اپنے سماج کی بھلائی کادرد مچلتا ہو۔ جو پل پل زندگی کی کروٹوں کو اپنی فکر میں سمونے کا ہنررکھتا ہو۔ اس کا اس دنیا سے اٹھ جانا آدمیت اور ادب کے لیے بڑا خسارہ ہے۔
گوہر صاحب کی رخصت سے یقینا ادبی حلقہ اداس اور سوگوار ہے۔ ہم ان کے پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ گوہر صاحب کے چاہنے والے ان کے شاگرد اور ان کے دوست و احباب اور اردو برادری کے ذی شعور لوگ ان کی یادوں کو تادیر زندہ رکھیں گے۔ اور ان کی وراثت کو اگلی نسلوں تک پہونچانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔

٭٭٭٭٭٭