حیدرآباد میں کورونا کا نیا طریقہ علاج _ ہفتہ میں وائرس سے نجات!

حیدرآباد _ کورونا کے مریضوں کے لئے ایک نیا طریقہ علاج Monoclonal antibbodمتعارف کیا جا رہا ہے۔ جو انجکشن کے ذریعہ مریض کے جسم میں اینٹی باڈیز دیا جائے گا۔اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں .. حکومت ہند نے حال ہی میں اس علاج کی منظوری دی ہے۔ ایک خانگی  دوا ساز کمپنی کو 2 لاکھ خوراکیں تیار  کرنے کی اجازت دی  ہے۔ فی الحال یہ طریقہ علاج امریکہ میں دستیاب ہے وہ اب نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ ہماری ریاست تلنگانہ بھی بہت جلد دستیاب ہے۔ اس علاج سے کورونا کا وائرس ، جسم سے 7-10 دن میں غائب ہوجاتا ہے۔  حیدرآباد کے ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹروینٹولوجی (اے آئی جی) کے چیئرمین ، معروف معدے کے معالجے ، ڈاکٹر کرشنا ریڈی  نے کہا کہ ہندوستان میں یہ طریقہ علاج سب سے پہلے ان کے ہاسپٹل میں شروع ہونے والا ہے دو انجکشن کو ملا  کر مریض کو دیا جائے گا۔

“جسم میں وائرس کے خلاف کام کرنے والے اینٹی باڈیز کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ‘تسیربیباب’ اور ‘امیڈویماب’۔ انہیں اکٹھا کرتے ہوئے  نئی اینٹی باڈیز تیار کیا جا رہا ہے ۔ اس عمل کو “مونوکلونل اینٹی باڈیز تھراپی” کہتے ہیں۔ دونوں انجیکشن  کی  شکل میں دستیاب ہیں۔ دونوں کو ملا کر آئی وی  کے ذریعہ ایک ہی خوراک  جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ فی الحال اس کی قیمت 70،000 روپے کے لگ بھگ ہے۔ پلازما تھراپی میں بہت سی قسم کے اینٹی باڈیز ہیں۔ لیکن “مونوکلونل” میں دو قسمیں ہیں۔ اگر 5 ملی لیٹر مونوکلونل  دی گئی تو یہ 5 لیٹر پلازما دیئے کے برابر ہے۔

ڈاکٹر ناگیشور راو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے  تو اس وقت ان میں Monoclonal antibbodمنتقل کر دی گئی۔ ٹرمپ دو دن میں ہی صحت یاب ہو گئے۔ یہ انجکشن مریض کو وائرس سے متاثر ہوئے کے تین تا سات دن کے اندر دیا جاتا ہے فی الحال اس طریقہ علاج پر ان کے ہاسپٹل میں تجربہ ہورہا ہے بہت یہ علاج شروع کیا جائے گا