ہیلت

ماں اور باپ کو شوگر کی بیماری نہیں ، لیکن تین بچوں کی شوگر سے موت ، چوتھا بچہ بھی متاثر

حیدرآباد_ 25 جولائی ( اردولیکس) تلنگانہ کے گدوال ضلع میں راگھویندر اور سرسوتی جوڑے کو شوگر یا دوسری کوئی بیماری نہیں ہے لیکن ان کے تین بچوں کی موت شوگر کی وجہ سے ہوگئی ہے اور اب چوتھا بچہ بھی اس مرض میں مبتلا ہے

 

گدوال ضلع کے راجولی منڈل کے پیدھن واڈا گاؤں میں رہنے والا یہ جوڑا زرعی مزدور ہے اور ان کے پاس کچھ زرعی زمین بھی ہے ۔ ان دونوں میں کسی کو شوگر نہیں ہے۔ تاہم ان کے تین بچے اسی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ پہلی بیٹی 2005 میں پیدا ہوئی تھی ۔ شوگر کی وجہ سے ایک سال کے اندر انتقال کر گئی ۔ 2008 میں پیدا ہونے والے دوسرے بیٹے ویریندر کی چار سال کی عمر میں شوگر کے باعث گردے فیل ہونے کی وجہ سے موت ہو گئی۔  تیسرے بچے رنگاسوامی کی پیدائش 2013 میں ہوئی تھی۔ یہ بچہ بھی تین سال کی عمر میں شوگر سے متاثر ہوا تھا۔ چھ سال بعد بیماری نے زور پکڑ لیا اور اس کی بھی موت ہوگئی ۔

 

چوتھا بچہ بھیمارائیڈو کی پیدائش 2017 میں ہوئی تھی۔  دو سال کی عمر تک وہ بالکل ٹھیک تھا، اس کے چند دن بعد وہ کثرت سے پیشاب کرنے لگا ۔ ڈاکٹروں نے اسے بھی  شوگر سے متاثر قرار دیا۔ اور اس کا علاج شروع کیا گیا۔بھیما رائیڈو کے علاج پر ہر ماہ 5 ہزار روپے تک کا خرچ آتا ہے۔ والدین روزانہ شوگر لیول چیک کرتے ہیں اور صبح و شام انسولین لگاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں لڑکے کا پیٹ زخموں سے بھر گیا ہے۔ جوڑے نے اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنا آدھی ایکڑ زمین  بیچ دی۔ اب تک وہ بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنے آخری بچے کے طبی اخراجات کے لیے 4 لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button