نیشنل

اب درگاہ اجمیرشریف پرہندو تنظیم نے کیا مندرکا دعویٰ

نئی دہلی: گیان واپی مسجد، تاج محل اورقطب مینارکے بعد اب اجمیرشریف پرمندرکا دعویٰ کیا گیا ہے۔عظیم صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ پر ایک ہندو تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پہلے ایک مندر تھا جسے بعد میں گرا کر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے سروے کا مطالبہ کیا گیا۔ مہارانا پرتاپ سینا کے راج وردھن سنگھ پرمار نے دعویٰ کیا ہے کہ درگاہ کی دیواروں اور کھڑکیوں پر ہندو مذہب سے متعلق نشانات ہیں، پرمار نے کہا کہ ’’ان کا مطالبہ ہے کہ درگاہ کا سروے اے ایس آئی سے کروایا جائے‘‘۔ اس سلسلے میں ریاست کے چیف منسٹرکے نام ایک مکتوب بھی روانہ کیا گیا ہے۔ درگاہ کی خادمین کمیٹی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسا کوئی نشان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ پر ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے کروڑوں عقیدت مند آتے ہیں۔ یہ درگاہ شریف 850 سال سے موجود ہے۔ ایسا کوئی سوال آج تک پیدا نہیں ہوا۔ آج ملک میں ایک خاص قسم کا ماحول ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button