وزیر داخلہ محمد محمود علی کے ہاتھوں ننھی گلہری فاؤنڈیشن حیدرآباد کے بانی شاھد علی حسرت کو ایوارڈ

شہر حیدرآباد کی معزز اور معتبر شخصیت، اسٹیٹ ٹیچرز یونین تلنگانہ ریاست ضلع حیدرآباد کے اسٹیٹ کونسلر، ریاستی ادارہ برائےتعلیمی تحقیق و تربیت کے ایس – آر-جی- معروف سوشل ورکر، ایجوکیشنل یوٹیوبر، سماجی کارکن، حرکیاتی اور محنتی شخصیت جناب شاھد علی حسرت کو حکومت تلنگانہ کے ڈیجیٹل اسباق کی کامیاب پیش کش پر وزیر داخلہ جناب محمود علی صاحب نے توصیف نامہ پیش کی اور شال پوشی فرمائی۔
اس موقع اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ اردو مدارس اور اردو اساتذہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے، معزز وزیراعلی جناب‌ کے سی آر صاحب نے اردو کی ترقی وترویج کے لیے لیے نہ صرف اردو کو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا بلکہ اردو زبان کی ترقی وترویج کیلئے اقدامات کرنے کے بھی وعدے کیے ۔ واضح رہے کہ جناب شاھد علی حسرت جی بی پی ایس کندیکل گیٹ چارمینار منڈل حیدرآباد پر متعین ہیں اور انہوں نے کلکٹر حیدرآباد و ڈی ای او حیدرآباد کے مشترکہ پروجیکٹ “حیدرآباد ڈیجیٹل لائیبریری” کے لئے بیالوجی اردو میڈیم کے لئے ویڈیوز تیار کیے ہیں جس کی پزیرائی ساری ریاست میں ہوئی ہے، اور ساتھ ہی واٹس ایپ بوٹ کے لئے بھی حیاتیات جماعت دہم اردو میڈیم کے لئے معروضی پرچے، اردوپرایمری طلبہ کے لیے ورک شیٹ بھی تیار کیے ہیں، اس وقت وہ تلنگانہ و آندھرا پردیش کے زاید از 2300 طلبہء کو TET CTET DSC TRT 2021 کی مفت آن لائن کلاسس منعقد کر رہے ہیں جو کہ دونوں ریاستوں میں پہلی مرتبہ اس طرح کی مفت آن لائن کلاسس شروع کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ ایک کامیاب یوٹیوب چینل چلاتے ہیں جہاں ہائی اسکول حیاتیات سے انٹرمیڈیٹ بیالوجی، نیٹ، ٹیٹ، سی ٹیٹ، ڈی ایس کے لیے اردو میڈیم کے طلباء کے لئے بہترین ویڈیوز تیار کر رہے ہیں، چارمینار منڈل میں تعلیمی و تربیتی پروگراموں کے زریعہ غریب اور متوسط طبقے کی عوام پر چھاے ناخواندگی کے گھنے سیاہ بادلوں کی دھند کو چھانٹ کر انہیں علم کی روشنی سے سرفراز کیا ہے، وہ ایک موٹیویشنل اسپیکر بھی ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں میں کامیابی کے ساتھ بہت سارے سیشنس منعقد کرچکے ہیں. اور بہت سی سماجی اور لسانی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب ہر طرف کورونا وباء کی زد میں میں لوگ تھے اور تعلیمی ادارے بند تھے ایسے وقت میں اردو مدارس اور اردو طلبہ کے لیے وقت نکال کر اعلیٰ اور معیاری مواد تیار کرکے تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک جانا اور وہاں پر اپنے اسباق کی ریکارڈنگ کروانا اور بہترین انداز میں پیش کرنا یقینا قابل تقلید اور قابل مبارک باد اقدام ہے۔جناب شاھد علی حسرت کو اس توصیف پر شہر حیدرآباد کے معززین بشمول جناب محمد اسحاق صاحب، واجد علی صاحب، ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولس نعیم قیصر صاحب، کامپلکس ہیڈ ماسٹر بھردواج صاحب، پروفیسر ایس ایم فصیح اللہ، ٹیم جی-ٹی – سی-سی، ٹیم کندیکل گیٹ کے علاوہ ننھی گلہری فاؤنڈیشن سے وابستہ طلباء و دیگر اضلاع کے دوستوں اور بہی خواہوں کی کثیر تعداد نے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔