نیشنل

49 سال بعد حیدرآباد بی چینل خاموش، صرف یادیں رہ گئیں باقی

تحریر سید ندیم‌اختر ذیدی

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

تقریباً نصف صدی تک سر زمین ِ دکن کی عوام کی سماعتوں پر اپنی ریڈیائی لہروں کے ذریعہ راج کرنے والے حیدرباد B چینل کا درخشاں آفتاب بلآخر 14 جنوری 2022 کی صبح ڈوب گیا ۔ اور اپنے پیچھے یادوں کی انمٹ داستان چھو ڑ گیا۔

 دکن ریڈیو کے نام سے شروع کیا گیا یہ چینل بعد میں حیدرباد B چینل کے نام سے مشہور ہوا۔ اس چینل پر ہر عمر اور ہر طبقہ کی ذہنی تفریح کا سامان مہیا کیا گیا تھا۔ اس چینل پر صبح کا آغاز جہاں قومی اتحاد کے جذبات کو فروغ دینے والے پروگرام ایشور ﷲ تیرو نام سے کیا جاتا جس میں بھجن ۔ پنجابی گیت ۔قوالی اور ہر جمعہ قرات و نعت بھی شامل ہوتے وہیں وہیں نوجوانوں کے لئے خصوصی پروگرامس یواوانی کے ذریعہ صبح اور شام کے اوقات میں مہیا کئے جاتے ۔ جس میں نوجوانوں کو صحت مند ذہنی تفریح طبع کا سامان موجود ہوتا۔ بہنوں کے لئے بزم نسواں کے عنوان سے رہبری و رہنمائی فراہم کی جاتی۔ بچوں اور طالب علموں کے لئے خصوصی پروگرام اس چینل پر موجود تھے۔ پرانے اور نئے فلمی گیت ہلکی سازِِ موسیقی ٰ ہندوستانی سنگیت جیسے پروگرام ذہنی آسودگی کا ذریعہ ہوتے۔ ہمہ لسانی پروگرامس کی بہترین مثال اس چینل کے ذربعہ سامعین کو سننے کو ملتی۔ اردو تلگو انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی کناڈا مراٹھی اور دیگر زبانوں میں بھی پروگرامس پیش کئے جاتے تھے۔ اس چینل نے اردو پروگرام نیرنگ کے ذریعہ سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ نیرنگ پروگرام کے سننے والوں کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں تھی۔ خصوصاً پروگرام چھوٹی چھوٹی باتیں اور پھر یہ گلستاں ہمارا کی مقبولیت بامِ عروج تک پھنچ چکی تھی ۔ بزم تمثیل کے تحت مختلف ڈرامے بھی عوام میں کافی مقبول رہے۔ 

کسی زمانے میں اس چینل سے جڑے ملازمین و فن کار سامعین کے لئے کسی دیو مالائی داستان کے کردار سے کم نا تھے۔ خصوصاً جناب جعفر علی خان ۔ جناب اسلم فرشوری جناب دانش اقبال محترمہ افشاں جبین جناب سید مقرب حسینی محترمہ مہہ جبین ظفر رانی صاحبہ۔ جناب کبیر احمد ۔ڈاکٹر غوثیہ سلطانہ صاحبہ وغیرہ کو آج بھی قدیم سامع یاد کرتے ہیں۔ جناب شجاعت علی راشد جناب اطہر پرویز جناب راجیو کانت جناب باقر مرزا صفی ﷲ عائشہ جلیل جیسے فنکار آج بھی سامعین کے دلوں میں محفوظ ہیں ۔ نوجوانوں کا مقبول عام پروگرام گلدستہ اور دیگر پروگرامس کے حوالے سے محترمہ عصمت نسیم سحر ڈاکٹر گل رعنا ۔ الماس فلک ۔ عائشہ مقصود اکبر علی احسن ۔ آصف الدین۔ ابراہیم آصف عظیم قریشی عابد عبدالواسع عبدالحق ۔ نعیم الدین قادری ۔ حبیب الدین قادری مظہر الدین ندیم جاوید محی الدین ۔ جعفر جری ۔ الماس فلک ۔ نور افشاں ۔ صالحہ جبین ۔ باسط ملک ڈاکٹر عطیہ سلطانہ عفت ناظمہ ڈاکٹر حمیرہ سعید مسرت حنا واجدہ نرجس خاتون اسریٰ شیریں واجدہ بیگم ندیم اختر زیدی منظور احمد۔ اعجاز آفتاب ۔ سید حامد ۔جمیل احمد وغیرہ کو آج بھی سامعین یاد کرتے تھے۔

 

شاید بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کے عرصہ دراز سے ایشور ﷲ تیرو نام کے ترتیب کار جناب محمد عبدالحئی رہے ہیں۔ حیدرباد B چینل کی دنیا نے جہاں فن کاروں کو مقبولیت کی بلندیوں پر پھنچایا وہیں قدیم سننے والوں کو بھی زندہ جاوید بنادیا ۔ چنانچہ متین صدیقی ۔ نسیم الدین نسیم ماہرہ بیگم ۔ وینکٹ راو چانگلیکر ۔ بابو اکیلا۔ حسن بھائی میکانک جیسے سامعین B چینل کے بہت بڑے قدر داں تھے۔

 

حیدرباد B چینل کے حوالے سے مجھے یہ فخر ہے کے میں نے دو دہائیوں تک اردو پروگرمس کے معیار وقار اور اعتبار میں اپنا کردار ادا کیا ۔ Bچینل کے عروج و زوال اور پرانی و نئی نسل کے درمیان میری حیثیت ایک پل کی سی رہی ہے۔ خصوصاً روزگار نامہ اور محرم و میلاد النبی صلعم کے OB پروگرامس کی نشریات میں خاکسار کا رول نا قابل فراموش رہے گا۔ یہاں ایک خوشگوار حادثے کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ کے ایک مرتبہ مدینہ سرکل کے قریب میری گاڑی خراب ہوگئی۔ میں نے دیوان دیوڑھی کی ایک میکانک کی دوکان پر اپنی گاڑی بنوانے دی اور جب باتوں ہی باتوں میں ریڈیو سے متعلق اور روزگار نامہ کا ذکر آیا اور جب میکانک صاحب کو پتہ چلا کے روزگار نامہ کی پیشکشی کا اعزاز مجھ ناچیز کو حاصل ہے تو وہ اپنے تمام اوزار چھوڑ چھاڑ کرنہایت گرم جوشی سے دست بوسی کرنے لگے۔ ان کے فرشی سلاموں کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔

 

آل انڈیا ریڈیو حیدرباد B چینل کا مکمل احاطہ اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔ جناب عبد المجید ۔ ڈاکٹر غوثیہ سلطانہ ڈاکٹر جوہر جہاں ۔ڈاکٹر گل رعنا ۔جناب نور الدین ۔ جناب ایم اے حئی ۔ ندیم اختر زیدی ۔ محترمہ نور افشاں۔ محترمہ واجدہ بیگم۔ شریمتی این سی جیوتشنا۔ جناب آصف الدین ۔محترمہ صبیحہ بیگم ۔ جناب مجید صاحب۔ جناب نعیم الدین قادری۔ جناب محمد منظور احمد۔ جناب محمد عبدالقدیر ۔ جناب عظمت ﷲ خان۔ دردانہ مسکان ۔ محترمہ اسماء بیگم ۔ محترمہ روحینہ وغیرہ عرصہ دراز سے بحثیت جنرل اناونسر اپنی خدمات انجام دیتے آرہے ہیں ۔بحر حال حیدرآباد B چینل کا خاتمہ اردو زبان و ادب کا ایک نقصانِ عظیم ہے جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button