ہندوستان میں کورونا کی تیسری شکل “تریبول موٹیشن ویرینٹ ” دریافت!

حیدرآباد _ ہندوستان میں سائنسدانوں نے کورونا کی تیسری شکل یعنی تربیول موٹیشن ویرینٹ دریافت کی ہے اب تک برطانیہ میں پہلی شکل اور آفریقی ممالک میں دوسری شکل کے کورونا کی دریافت ہوئی تھی جس نے دنیا کے کئی ممالک میں کافی تباہی مچا رکھی ہے اب تازہ طور پر ہندوستان میں میں اس موذی مرض کی تیسری شکل کے پائے جانے کے انکشاف کے بعد ملک کو ایک نئے چیلینج درپیش ہے۔ملک میں جاری کورونا کہ دوسری لہر کے دوران اس کی تیسری شکل کی دریافت ہوئی ہے سائنسدانوں کاکہناہےکہ تیسری شکل کے کورونا کی شدت میں کافی اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے  روزانہ 3 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہورہے ہیں اس میں وائرس کو تیزی سے پھیلانے کی طاقت ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تیسری شکل کا مطلب یہ ہے کہ وائرس میں تین تغیرات ہوتے  ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کورونا کی تیسری شکل کے کیسس مہاراشٹر ، دہلی ، بنگال اور چھتیس گڑھ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف جینومک اینڈ انٹیگریٹو بیالوجی  کے ایک سائنس دان ، ونود سکاریہ نے بتایا ، پہلے اس وائرس کی شناخت بنگال میں ہوئی تھی۔ ‘‘ ٹرپل ویرینٹ ’ہوا کی رفتار کے ساتھ پھیلتا ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ متاثر ہورہےہیں، “میک گل یونیورسٹی کے پروفیسر مدھوکر پائی نے کہا۔ یہ کہنا ناممکن ہے تیسری شکل کا کورونا کتنا نقصان دہ ہہے جب تک اس کے معاملات کا مکمل تجزیہ نہیں کیا جاتا اس کی شدت کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔