نیشنل

فلم "میں نے گاندھی کو کیوں مارا”پر پابندی لگانے انڈین یونین مسلم لیگ کا مطالبہ

چنئی۔(پریس ریلیز) انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے قومی صدر پروفیسر قادر محی الدین نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ 30جنوری 2022″کو "میں نے گاندھی کو کیوں مارا ” (Why I killed Gandhi) نامی ایک فلم ریلیز ہورہی ہے، لہذا،انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کو اس فلم پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر قادرمحی الدین نے مزید کہا ہے کہ ہم ہندوستان کی آزادی کے 75ویں سالگرہ کو ملک بھر میں تزک و احتشام سے منارہے ہیں۔ ایسے میں گاندھی کے قتل کی فلم جاری کرنے کیلئے شیطانی قوتیں آزاد ہندوستان میں آزادانہ طور پر کام کررہی ہیں۔

گزشتہ سال اسی 30جنوری کو اتر پردیش میں عورت کے روپ میں ایک ‘ڈائن’کی قیادت میں کچھ شرپسندوں نے گاندھی کا پتلا بنا کراس پر سرخ رنگ لگا کر اسے سڑک کے بیچوں بیچ رکھ کر ایک نقلی بندوق سے گولی ماری گئی تھی اور ان کے پتلے کو پیروں تلے روندا گیا اور گولی مارنے کے منظر کو علامتی طورپر دکھا کر ان کے قتل کا جشن مناتے نظر آئے تھے۔ گاندھی کا قاتل ناتھورا م گوڈسے نے عدالت میں اپنی صفائی میں جو الفاظ استعمال کیا تھا اسی الفاظ کو "میں نے گاندھی کو کیوں مارا” استعمال کرکے اوراس عنوان سے فلم تیار کرکے امسال 30جنوری 2022کو ایک فلم ریلیز کی جارہی ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر قادرمحی الدین نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے بڑی دکھ کی بات یہ ہے کہ "میں نے گاندھی کو کیوں مارا”نامی فلم میں ایک رکن پارلیمان نے گوڈسے کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا نام امول کولہے ہے، کیا آپ جانتے ہیں وہ کس پارٹی کے ایم پی ہیں؟، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر اور محترمہ سونیا گاندھی کے ہندوستان کی وزیراعظم نہ بننے کیلئے احتجاجا کانگریس چھور کر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بنانے والے شرد پوار کے شاگرد ہی رکن پارلیمان امول کولہے ہیں۔ آج شرد پوار کی پارٹی این سی پی مہاراشٹرا میں شیوسینا کے ساتھ اتحاد میں ہے۔ ناتھورام گوڈسے نے 30جنوری 1948کو دہلی کے برلا پیلس میں شام 5.10بجے ایک دعائیہ اجلاس میں شرکت کے دوران مہاتما گاندھی کو تین بار گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ وہاں جمع 500سے زیادہ لوگوں نے کہا کہ گوڈسے نے گولی چلانے سے پہلے گاندھی کے سامنے جھک کر پرنام کرنے کے بعد اپنی بندوق سے گولی ماری تھی۔ گوڈے کے خلاف گاندھی کے قتل کیس کا فیصلہ 10فروری 1949کو آیا تھا، گوڈسے کو سزائے موت سنائی گئی اور 10نومبر 1949کو اس کو پھانسی دی گئی۔ دہلی سپریم کورٹ میں گوڈسے نے گاندھی کے قتل کو جائز قرار دیا تھا۔ گوڈسے نے اپنے حلف نامہ میں عدالت کو بتایا کہ گاندھی کو قتل کرنا اس کا مذہبی فریضہ ہے کیونکہ وہ ایک بری طاقت ہیں اور ناانصافی کرنے والے ہیں اور مسلمانوں کی حمایت میں کام کررہے ہیں۔ گوڈسے نے مزید کہا تھا کہ "میں گاندھی کیلئے گہرا احترام رکھتا ہوں، جب میں نے انہیں مار ا تو میں خوش نہیں تھا، میرا خیال ہے کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں اور ان کے مفادات کے حامی رہے،اس کے سوا مجھے ان سے کوئی اور نفرت نہیں ہے، کوئی اور ذاتی وجہ نہیں ہے،میرا کوئی اور مقصدنہیں ہے، لہذا، میں نے ایک بری طاقت کو ختم کرنے کیلئے انہیں مارا جنہوں نے ہندوستان کو برائی سے دوچار کیا تھا۔ یہی میں ہوں، میں مرنے کیلئے تیار ہوں، مجھے کوئی پچھتاوا نہیں، میں اس سے پوری طر ح مطمئن ہوں۔ گوڈسے کی گولی سے جب بابائے قوم اور اہنسا کی مورتی مہاتما گاندھی جی شکار ہوئے تو پوری دنیا روئی تھی۔ مہاتما کی آخری رسومات میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے آنسوؤں کے ساتھ کہا تھا کہ ایک روشنی ہم کو چھوڑ کر چلی گئی، یہ کوئی عام روشنی نہیں ہے، یہ روشنی آنے والے کئی سالوں تک زمین کو روشن کرے گی۔ یہ روشنی جو انسانوں کے دلوں میں رہتی ہے، آنے والے ہزاروں سالوں تک ملک اور دنیا کو روشن کرتی رہے گی۔یہاں نہر و جی مہاتما گاندھی کی روشنی کا ذکر کررہے ہیں۔ ایسی روشنی کی تاریخ کو فروغ دینے کے بجائے ان کا قتل کرنے والے کی تاریخ کا فروغ دینا کہاں کا انصاف ہے؟۔

"میں نے گاندھی کو کیوں مارا "نامی فلم 30جنوری 2022کو ملک میں یا دنیا میں کہیں بھی ریلیز نہیں کی جانی چاہئے۔ گاندھی مارے گئے ہونگے، لیکن، گاندھی ازم کو کوئی نہیں مار سکتا! اگر یہ سچ ہے کہ گاندھی جی کی تعلیمات عدم تشدد،، سچائی، ستیاگرہ اور مذہبی ہم آہنگی جو انہوں نے سکھایا وہ ہمیشہ ملک میں موجود ہیں تو بابائے قوم کے بارے میں ایسی فلم ریلیز نہیں ہونی چاہئے۔ ہر ایک حکومت کو اس فلم پر پابندی لگانی چاہئے!۔

 

https://youtu.be/-kMdNHC5NFM

متعلقہ خبریں

Back to top button