کورونا وائرس کی جڑوں کا پتہ چلانے امریکی انٹیلی جنس کو جوبائیڈن کی ہدایت

حیدرآباد _ گذشتہ ڈیڑھ سال سے دنیا بھر میں دہشت مچا رکھنے والی کورونا وائرس کی وبا کی جڑیں کہاں سے شروع ہوئی ہیں اس کا پتہ چلانے کا  امریکہ نے فیصلہ کیا ہے اس سلسلہ میں امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی خفیہ ایجنسی کو تین ماہ کے اندر کورونا کے منبع کا پتہ  کرنے کا حکم دیا ہے۔ وائرس ، جس کی ابتدا سب سے پہلے چین میں ہوئی تھی ، کسی جانور کے ذریعہ سے پیدا ہوئی؟ یا   یہ لیبارٹری کے  سے پیدا  ہوئی  ہے؟ اس کی 90 دن کے اندر  رپورٹ پیش کرنے کا مشورہ دیا ۔ کورونا کے تعلق سے یہ اختلاف رائے پائی جاتی کہ یہ وائرس چین میں ووہان لیب سے پیدا ہوا تھا اور اسے جانوروں کے ذریعہ سے پھیلایا گیا، اس کی  تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ بائیڈن نے امریکی قومی لیبارٹریوں سے تحقیقات میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ چین سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس وائرس کے منبع کو تلاش کرنے کے لئے تعاون کرے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ وائرس کی جڑوں کا پتہ چلانے کے لیے امریکہ،  چین پر دباؤ کے ساتھ پوری شفافیت ، شواہد پر مبنی  اعداد و شمار ، ثبوت کے ساتھ دنیا بھر کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل حقائق کبھی معلوم نہیں ہوسکے کیونکہ چینی حکومت نے بین الاقوامی تحقیق میں تعاون سے مکمل طور پر انکار کردیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی معلومات کی کوششوں کو دوگنا کریں اور تجزیاتی تفصیلات اکٹھا کریں۔ بائیڈن نے انٹلیجنس کو صحیح انداز میں تحقیقات کرتے ہوئے  90 دن کے اندر  رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس وائرس سے پہلے ہی  34 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں اس وائرس نے دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا ہے