توہین رسالت کے جرم میں پاکستان میں ایک خاتون پرنسپل کو موت کی سزا

حیدرآباد _ پاکستان کی ایک عدالت نے ایک اسکول کی پرنسپل کو توہین رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ لاہور کے نشتر کالونی کے ایک خانگی  اسکول کی خاتون پرنسپل  توہین رسالت کی مجرم پائی گئی اور ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے پیر کو سزائے موت سنائی اور اس پر 50 ہزار پاکستانی روپے جرمانہ عائد کیا۔

لاہور پولیس نے 2013 میں ایک مقامی عالم  کی شکایت کے بعد پرنسپل سلمیٰ تنویر کے خلاف توہین رسالت کا ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ سلمی تنویر نے نبوت کا دعوی کرتے ہوئے اپنے محلہ میں پمفلٹ تقسیم کئے تھے سلمیٰ تنویر کے وکیل نے پہلے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے موکل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اسے طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اس کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی۔ اسی تناظر میں عدالت نے  اسے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

توہین رسالت پاکستان میں ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے  توہین رسالت کی سزا بھی بہت سخت ہے۔ پاکستان میں 1987 سے اب تک توہین رسالت کے قانون کے تحت کم از کم 1،472 افراد پر فرد جرم عائد کیا گیا  ہے۔ وکلاء ایسے  مقدمات میں گرفتار افراد کی جانب سے پیروی کرنے سے بھی انکار کرتے ہیں۔