انٹر نیشنل

اسرائیلی صحافی کے بعد اب تلگو یو ٹیوبر مکہ مکرمہ میں داخل۔مسلمانوں میں شدید برہمی۔کاروائی کا مطالبہ

حیدرآباد: ایک تلگو یوٹیوبر کے اس دعوے کے بعد  کہ اس نے سعودی عرب میں اسلام کے مقدس ترین مقام مکہ کا دورہ کیا تھا ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ روی پربھو نے حال ہی میں ایک لائیو چیاٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہوا ہے اور یہاں تک کہ اس نے اپنے موبائل پر ایک تصویر بھی دکھائی جس میں وہ مکہ کے قریب ہاتھ اٹھائے کھڑا دکھائی دے رہا ہے جیسے کہ دعا کی جاتی ہے۔

ایک اور ویڈیو کلپ میں اس نے انکشاف کیا ہے کہ مکہ کے داخلی راستے پر اسے کچھ قرآنی آیات سنانے کو کہا گیا اور جب اس نے تلاوت کی تو اسے جانے اجازت دے دی گئی۔ غیر مسلم نوجوان‌ کے‌ چوری  چھپہ مقام مقدس میں داخلے پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے اور وہ اسکے خلاف کاروائی کا سعودی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں۔ قبل ازیں وہ لوگوں کے سوالات کے جوابات دے رہا تھا اب اس نے یہ سلسلہ بند‌کردیا ہے۔نوجوان کی اس حرکت پر لوگ شدید برہم ہیں اور انھوں نے ریمارکس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے 8-10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایک اور صارف نے بتایا کہ اسے سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہونے پر سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے سعودی حکام کو ٹیگ کرتے ہوئے روی کے خلاف مبینہ طور پر مکہ میں داخل ہونے کے لیے جعلی مسلم سرٹیفکیٹ استعمال کرنے پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، اس نے روی کے دعووں کی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔ روی جس کے یوٹیوب چینل پر 6  لاکھ سبسکرائبرس ہیں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہونے والا پہلا تلگو یوٹیوبر ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی صحافی کے مکہ میں داخل ہوا تھا اور اس نے رپورٹ بنایی تھی، چینل 13 کے گل تماری نے مقدس شہر میں داخل ہونے کے لیے سعودی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اسے قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button