انٹر نیشنل

خنزیر کا دل رکھنے والے مریض کی موت _ دو ماہ قبل ہی مریض کے سینہ میں ڈالا گیا تھا خنزیر کا دل

 

نئی دہلی _ 9 مارچ ( اردولیکس ڈیسک) امریکہ کے 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینیٹ کو دو ماہ قبل خنزیر کا دل لگایا گیا تھا جس کی آج موت ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ماہ تک خنزیر کا دل اس مریض کے جسم میں کام کیا ۔اس کے بعد اس کی موت ہوگئی۔

جاریہ سال جنوری میں مریض کے سینہ میں خنزیر کا دل لگایا گیا تھا

تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ میں ڈاکٹرس نے  خنزیرکا دل انسان کولگایا۔ جاریہ سال جنوری میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کے دل کو انسانی جسم میں کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کیا۔ 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینیٹ کو جنگلی جانورکا دل لگایا گیا تھا ۔ ڈاکٹرس کا کہنا تھا کہ تین دن قبل یہ سرجری ہوئی لیکن اب بھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آپریشن کامیاب ہوگا یا نہیں۔ کافی عرصہ سے سائنسدان انسان میں جانوروں کے اعضاء کی پیوند کاری پرغورکررہے تھے اوراب اسے عملی جامہ پہنایا گیا ۔

واضح رہے کہ امریکی سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک خنزیر کے گردے کو انسانی جسم میں لگایا ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ آپریشن کامیاب رہا اور خنزیر کا گردہ  انسانی جسم میں  کام کرتا ہے۔تاہم یہ عارضی طور پر استعمال کے لئے لگایا جاتا ہے ۔

 

نیویارک میں NYU Langone Health Center کے  قبل ازیں سائنسدانوں نے ایک نیا تجربہ کیاتھا، خنزیر کے گردے کو مریض کے جسم میں لگایا گیا تھا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موجود دور  میں اعضاء کی پیوند کاری عام ہے لیکن انسانی اعضاء کی قلت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ سائنسدان برسوں سے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے تجربات کر رہے ہیں۔اسی کے ایک حصے کے طور پر جانوروں کے اعضاء انسانوں میں لگانے پر تحقیق جاری ہے۔

 

صرف امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ اعضاء کی پیوند کاری کے منتظر ہیں۔ان میں سے 90 ہزار سے زائد گردوں کے عارضہ کا شکار ہیں۔ امریکن نیٹ ورک فار آرگن شیئرنگ کے مطابق ایک شخص کو گردے کی تلاش میں اوسطا تین سے پانچ سال لگتے ہیں۔ جس پر سائنس دان جانوروں سے اعضاء اکٹھا کرنے اور انسانوں میں لگانے کے موضوع پر وسیع تجربات کر رہے ہیں

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button