افغانستان کی یونیورسٹیز میں پردے لگا کر لڑکوں اور لڑکیوں کو دی جارہی ہے تعلیم !

کابل _ افغانستان میں روزانہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں کچھ صوبوں میں یونیورسٹیاں کھول دی گئی ہیں۔لڑکیوں اور لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھے بغیر کلاس رومس میں پردے لگائے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے کلاس روم میں لگائے گئے پردے کی تصاویر  مقامی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں اور اب وائرل ہو گئی ہیں۔

افغانستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔ طالبان ‘ایجوکیشن اتھارٹی’ نے حال ہی میں تعلیمی اداروں کو کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ طالبان نے کہا ہے کہ  یونیورسٹیوں میں جانے والی خواتین کو برقعہ اور نقاب پہننا چاہیے۔

مزید یہ واضح کر دیا گیا کہ مرد لڑکیوں کو تعلیم نہ دیں۔  لڑکیوں اور لڑکوں کو کلاس ختم ہونے کے بعد بیک وقت باہر نہیں جانا چاہیے۔  اگر وہ ایک ہی وقت میں نکلتے ہیں  تو انہیں باہر بات کرنے کا موقع ملے گا۔ تمام لڑکوں کے باہر جانے کے بعد لڑکیوں کو بھیجنے کا حکم دیا گیا۔