انٹر نیشنل

پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی منیشا روپیٹا

حیدرآباد _ 29 جولائی ( اردولیکس ڈیسک) پاکستان میں ایک ہندو لڑکی منیشا روپیٹا کو محکمہ پولیس میں پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جس نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں نمایاں مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس میں اعلی عہدہ پر فائز ہوگئی ۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے علاقے جیکب آباد کی رہنے والی منیشا روپیٹا نے 13 سال کی عمر میں ہی یتیم ہوگئی ۔اس کے والد جو مقامی طور پر کچھ کاروبار کرتے تھے کے انتقال کے بعد اس کی ماں نے منیشا اور اس کی دو بہنیں اور بھائی کی کافی مشکلات سے پرورش کی۔جن میں دو بہنیں ڈاکٹرس ہیں اور چھوٹا بھائی میڈیکل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کررہا ہے

26 سالہ منیشا روپیٹا نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں 468 امیدواروں میں سے 16 رینک حاصل کیا ۔ اس وقت منیشا روپیٹا، لیاری ریجن میں بطور ڈی ایس پی کام کر رہی ہیں۔

منیشا روپیٹا نے ڈی ایس پی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا کہ معاشرے میں خواتین پر بہت سے مظالم ہوتے ہیں انہوں نے ایسی خواتین کے لئے سہارا بننے کے ارادے سے پولیس میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیوں کے لیے ڈاکٹر یا ٹیچر بننے کے زیادہ مواقع ہیں۔لیکن وہ اس پیشے کا انتخاب کیا ہے جس سے مظلوم اور پریشان حال افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جاسکے ۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button