انٹر نیشنل

سعودی صحافی جمال خشوگی قتل معاملہ میں سعودی شہری پیرس میں گرفتار

سعودی صحافی جمال خشوگی قتل معاملہ میں سعودی شہری پیرس میں گرفتار 

حیدرآباد_ 7 ،دسمبر ( اردو لیکس ڈیسک) فرانسیسی پولیس نے منگل کو پیرس ایرپورٹ پر اس ٹیم کے ایک مشتبہ رکن کو گرفتار کیا جو سعودی عرب کا شہری بتایا گیا ہے جس نے 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں ایک  قونصل خانے  قتل کیا تھا۔

 

ذرائع نے بتایا کہ 33 سالہ خالد علطیبی کو ترکی کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر چارلس ڈی گال ایرپورٹ سے ریاض جانے والی پرواز سے عین قبل حراست میں لیا گیا ۔اسے چہارشنبہ کو عدالت  کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔

 

ترکی کی ایک عدالت نے 2020 میں خوشگی کے قتل کے الزام میں 20 مشتبہ افراد کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلانے کا آغاز کیا، جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دو سابق معاونین بھی شامل تھے۔

 

اس کے بعد ترک استغاثہ نے اس سال کے آخر میں چھ مزید سعودی مشتبہ افراد پر اس قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کیا، لیکن کسی بھی سعودی اہلکار کو ترکی میں اس قتل پر شخصی  طور پر عدالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

کون  ہے جمال خشوگی ؟

جمال خاشقچی یا جمال خشوگی سعودی عرب کے ایک معروف صحافی، تجزیہ نگار اور ایڈیٹر تھے جمال 13 اکتوبر 1958ء کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا محمد خاشقجی جو ترک الاصل تھے، نے ایک سعودی خاتون سے شادی کی تھی اور سعودی عرب کے بانی عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے ذاتی طبیب تھے۔جمال مرحوم سعودی عربی اسلحے کے تاجر عدنان خاشقجی کے بھتیجے تھے۔ جمال کے کزن دودی الفاید تھے، جو مملکت متحدہ کی شہزادی ڈیانا کے ساتھی تھی اور دونوں پیرس میں ایک کار حادثے میں مرے تھے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم سعودی عرب سے اور 1982ء میں امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی

 

تعلیم کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ گئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980ء کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔ اس دوران انہوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور 1980ء اور 90ء کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔انہوں نے خطۂ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے کئی اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔ 1990ء کی دہائی میں وہ پوری طرح سعودی عرب منتقل ہو گئے اور 1999ء میں وہ انگریزی زبان کے اخبار ‘عرب نیوز’ کے نائب مدیر بن گئے۔ 2003ء میں وہ ‘الوطن’ اخبار کے مدیر بنے لیکن عہد سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی انھیں ایک کہانی شائع کرنے کی وجہ سے وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس میں سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔برطرفی کے بعد پہلے لندن اور پھر واشنگٹن منتقل ہو گئے جہاں وہ سعودی عرب کے سابق انٹیلیجنس چیف شہزادہ ترکی کے میڈیا مشیر بن گئے۔ 2007ء میں پھر الوطن میں واپس آئے لیکن تین سال بعد مزید تنازعات کے بعد انہوں نے اخبار کو چھوڑ دیا۔2011ء میں پیدا ہونے والی عرب سپرنگ تحریک میں انہوں نے اسلام پسندوں کی حمایت کی جنہوں نے کئی ممالک میں اقتدار حاصل کیا۔2012ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے۔لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل 2015ء میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔سعودی امور پر ماہرانہ رائے رکھنے کی حیثیت سے جمال خاشقجی بین الاقوامی سطح پر مختلف نیوز چینلز کو مستقل طور پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ 2017ء کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب چھوڑ کر امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کے اپنے پہلے کالم میں لکھا کہ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ انھوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی ہے کیونکہ انہیں گرفتار کیے جانے کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بظاہر مخالفین پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاح کے حوصلہ مندانہ پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے عربی اخبار ‘الحیات’ میں ان کا کالم بند کروا دیا اور انہیں اپنے 18 لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لیے ٹویٹ کرنے سے اس وقت روک دیا گیا جب انہوں نے 2016ء کے اواخر میں اپنے ملک کو منتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو ‘والہانہ طور پر گلے لگانے’ کے جذبے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

 

جمال ستمبر 2017ء میں سعودی عرب سے فرار ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت نے ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی ہے اور بعد میں انہوں نے اخبار میں حکومت کے خلاف تنقیدی مقالات لکھے۔ وہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کے کٹر نقاد تھے۔ انہوں نے یمن میں سعودی عرب کی مداخلت کی شدید مخالفت کی تھی۔

 

جمال 2 اکتوبر 2018ء سے غائب ہیں اور آخری مرتبہ انہیں استبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔ترک پولیس کا الزام ہے کہ قونصل خانے میں انہیں قتل کر کے جسمانی اعضا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے گئے ہیں۔سعودی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ قونصل خانے سے زندہ باہر نکلے تھےلیکن ترک پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی سی سی ٹی وی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔19اکتوبر 2018ء کو سعودی حکومت نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی کی موت ہو چکی ہے۔ سعودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ موت استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لڑائی کے بعد ہوئی تھی ( بشکریہ وکیپیڈیا)

متعلقہ خبریں

Back to top button