برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس کی چاقو سے حملہ میں موت _ پولیس نے دہشت گرد حملہ قرار دیا

حیدرآباد _ برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس کا انتہائی بے دردی سے قتل کردیا گیا۔جمعہ کے روز ان پر ایک نوجوان نے چاقو سے حملہ کیا تھا ۔ وہ اس حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ہاسپٹل میں دوران علاج زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ رکن پارلیمنٹ پر مشرقی انگلینڈ میں ایک چرچ کے سامنے دوپہر کے وقت حملہ کیا گیا جب وہ حلقہ کے عوام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کرنے پہنچے تھے ۔ بھیڑ میں ایک نوجوان نے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس پر چاقو سے دیوانہ وار حملہ کیا۔اور موقع سے فرار ہو گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر حکام نے فوری طور پر ایک ایئر ایمبولینس کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا۔ ڈیوڈ امیس  کو علاج کے لیے قریبی ہاسپٹل پہنچایا گیا۔ لیکن ، وہ زخموں سےتاب نہ لاسکے۔ کیونکہ ان کے جسم سے  بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا۔ پولیس نے واقعے میں نوجوان کو  گرفتار کیا ہے۔جس کا تعلق سومالیہ سے بتایا گیا ہے

امیس کے قتل کو برطانوی پولیس نے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔ 69 سالہ امیس  1983 سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ امیس کی نمائندگی ایسیکس میں ساؤتھ اینڈ ویسٹ سے  ہے۔ حکمران کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ امیس کے قتل برطانوی لیڈروں نے افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ جون 2016 میں پیش آیا۔ جو کاکس ، ایک لیبر لیڈر ، کو انگلینڈ کے شمال میں اپنے آبائی حلقے میں چاقو سے حملہ کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا ۔ برطانوی قانون سازوں کو پارلیمنٹ میں مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن انھیں اپنے حلقوں میں  کوئی سیکورٹی نہیں ہوتی ۔