انٹر نیشنل

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کو جھٹکہ – ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا

امریکہ میں ٹیرف کے معاملے پر صدر امریکہ کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔  ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کردہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے یہ محصولات عائد کیے۔

 

چیف جسٹس جاہن رابرٹ کی سربراہی میں قائم بنچ نے 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت صدر نے یکطرفہ طور پر جوابی محصولات سمیت مختلف ٹیرف نافذ کیے، حالانکہ آئین کے مطابق ٹیکس اور محصولات عائد کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کو حاصل ہے۔

 

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ اختیار کسی بھی انتظامی شعبے کو منتقل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ صدر نے ٹیرف کو ایک اہم معاشی اور خارجہ پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

 

عدالت نے اس بات پر فی الحال کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی کہ حکومت کی جانب سے اب تک وصول کیے گئے تقریباً 133 بلین ڈالر (تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے) واپس کیے جائیں گے یا نہیں۔ اس معاملے پر نچلی عدالتیں فیصلہ کریں گی۔

 

دوسری معیاد کی صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے چین، میکسیکو، کینیڈا، بھارت اور برازیل سمیت کئی ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد سے 50 فیصد تک اور بعض معاملات میں 145 فیصد تک محصولات عائد کیے تھے۔ ان فیصلوں کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور چھوٹے تاجروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حکومت کے معاشی ایجنڈے کے لئے بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اسٹیل اور ایلومینیم جیسے بعض مخصوص شعبوں پر عائد ٹیرف ممکن ہے کہ اس فیصلے کے دائرے میں شامل نہ ہوں۔

 

اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ تقریباً 20 ریاستوں کے گورنروں سے ملاقات کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر نے عدالتی فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button