موجودہ دور میں معیاری انگریزی جاننا ضروری ٹیچرس کیلئے برٹش کونسل کے فاؤنڈیشن کورس کی تقریب سے ممتاز این آر آئی جناب مظہر حسینی کا خطاب

حیدرآباد:اچھے تلفظ اور لب و لہجہ کے ساتھ انگریزی جاننا نہ صرف بیرونی ممالک بلکہ ہندوستان میں بھی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ امریکہ سے سرگرم امدادی تنظیم سیڈ کے عہدہ دار جناب مظہر حسینی نے یہ بات کہی۔ وہ برٹش کونسل کی جانب سے ٹیچرس کے لئے انگریزی دانی کے فاؤنڈیشن کورس کے اختتام پر ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ میں اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ جناب مظہر حسینی نے کہا کہ آج ہندوستان میں بھی انگریزی رابطہ کی زبان بن گئی ہے۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ ملک کی کئی ریاستوں میں ہندی کا چلن نہیں ہے لیکن ہر جگہ انگریزی جاننےوالےموجود ہیں اور انگریزی میں آپ کا کام بن سکتا ہے۔

جناب مظہر حسینی نے برٹش کونسل کے زیراہتمام منعقدہ تربیتی کورس سے استفادہ کرنے والی ٹیچرس کے مظاہرے کی ستائش کی اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ آئندہ بھی سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔ برٹش کونسل برطانیہ اور دیگر ممالک کے درمیان تعلیمی شعبہ بالخصوص انگریزی کی تدریس کے کئی پروگرامس چلا رہی ہے۔ جناب مظہر حسینی نے کہا کہ سیڈ کی جانب سے اس تدریسی پروگرام کے لئے مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بھی تنظیم کی جانب سے اس طرح کی تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جناب مظہر حسینی نے بتایا کہ سیڈ تنظیم ہندوستان کی 14 ریاستوں میں خدمات انجام دے رہی ہے جس میں تعلیم و تدریس کے شعبہ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سیڈ کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے مختصر مدتی کورسس کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔ اس سال حیدرآباد کے 3 مراکز پر 60 ٹیچرس کو برٹش کونسل کے انگریزی فاؤنڈیشن کورس سے استفادہ کا موقع دیا گیا ہے۔ انھوں نے تیقن دیا کہ آئندہ مزید ٹیچرس کو تربیت دینے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ معاشرے میں اساتذہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان پر مستقبل کی نسلوں کی تعمیر کی ذمہ داری ہے۔

ڈائرکٹر ڈان گروپ آف انسٹی ٹیوشنس جناب فضل الرحمن خرم نے اس موقع پر برٹش کونسل اور سیڈ تنظیم سے اظہارتشکر کیا۔ انھوں نے انگریزی کے استعمال کے دوران مقامی زبانوں کے اثرات سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک اور این جی او نام فاؤنڈیشن کے جناب مجیب خان نے اپنے مختصر خطاب میں اساتذہ کے معیار کی ستائش کی۔ ممتاز ماہر امراض جلد ڈاکٹر غلام عباس نے صدارت کی۔ حَسنیٰ فاطمہ نے دلچسپ انداز میں پروگرام کی کارروائی چلائی۔