جنرل نیوز

مسلمان دعوت دین کے فریضہ کو انجام دیتے ہوئے اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں     

 حیدرآباد: جماعت اسلامی ہندچارمینار کے اجتماع عام سے مولانا حامد محمدخان کا "موجودہ حالات۔مسلمان کیا کریں "کے عنوان پر خطاب حیدرآباد۔23/ جنوری (پریس نوٹ) مسلمان اس وقت انتہائی سنگین اور دشوار ترین حالات سے دو چار ہیں۔ باطل طاقتوں کی یلغار ہر طرف سے ہورہی ہے۔ فرقہ پرستی ادارجاتی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مواصلاتی خلیج بڑھنے کے نتیجہ میں مسلمانوں کے تعلق سے فرقہ پرست طاقتیں غلط پروپگنڈا کر رہی ہیں۔ حالات کی اس ناسازگاری سے مسلمانوں میں ردّ عمل کی کیفیت بدلتی جارہی ہے۔ کہیں خود سپردگی اور پسپائی کو مصلحت کا لبادہ اوڑھایا جا رہا ہے اور کہیں بیجا جوش اور نعرے بازی کو عزیمت کا نام دیا جا رہا ہے۔

حالانکہ یہ دونوں پہلو ملت کی سربلندی کا ذریعہ نہیں بن سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان نامساعد حالات میں اپنے اندر ارتجائیت کو فروغ دیتے ہوئے اپنی قوتوں کو مجتمع کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان سخت حالات میں مسلمان مایوس، مشتعل اور مر عوب ہوئے بغیر دعوتِ دین کے فریضہ کو اپنا مشن بنالیں تو ہر چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے حالات پر قابو پاسکتے ہیں۔ اس کے لئے ملت کے علماء، دانشوروں، قائدین اور تمام جماعتوں کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا حامد محمد خان، امیر حلقہ، جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے آج سید مودودیؒ لکچر ہال، چھتہ بازار میں جماعت اسلامی ہند، چارمینار کے اجتماع عام سے بعنوان "موجودہ حالات۔ مسلمان کیا کریں؟”خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات سخت ہوتے ہیں تو قوموں کے سوئے ہوئے جذبات امنڈ پڑتے ہیں اور قومیں اپنا احتساب کرتے ہوئے نئے عزائم کے ساتھ میدانِ عمل میں کود پڑتی ہیں۔ ناکامیوں کے صدمے قوموں کو جھنجھوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے مسلمان حالات کی سختی سے نہ گھبراتے ہوئے اپنے ایمان کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو ٹٹولیں اور اس پر قابو پائیں۔ مولانا نے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کے تجدیدِ ایمان کے ساتھ ان میں پائے جانے والے تناقص کو ختم کرنے میں ہے۔ اسلام قول و فعل کے تضاد کو پسند نہیں کرتا۔ ہم اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جا ئیں تو اللہ کی مدد و نصرت ضرور آئے گی۔ مولانا نے کہا کہ اتحاد بین المسلین وقت کا اہم تقاضا ہے۔ مسلمانوں کے انتشار کا دشمن فائدہ اٹھارہا ہے۔ مسلمان اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں اور فروعی اختلافات کو عوامی موضوع نہ بنائیں۔ ہر مسلمان اپنے مسلک پر رہتے ہوئے دوسرے مسالک کا احترام کرے۔ مسلک مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مقصد ایک ہو، اور وہ اللہ کی دین کی طرف لوگوں کو بلانا ہو، تب ہی مسلمانوں میں حقیقی اتحاد پیدا ہو سکتا ہے۔

مولانا نے کہا کہ ہر مسلمان یہ طے کرلے کہ وہ کم ازکم دس برادرانِ وطن تک اسلام کا تعارف پیش کرے گا۔ اگر مسلمان یہ کام کریں گے تو اسلام اور مسلم دشمنی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں فکری اور فقہی جمود بھی بڑھتا جا رہا ہے اس لئے مسلمان اپنا لائحہ عمل طے نہیں کر پارہے ہیں۔ مسلمان اپنی اخلاقی طاقت میں بھی اضافہ کریں اور ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ خاص طور پر ہندوستان میں مسلمان مثبت سوچ اور مصمم ارادوں کے ساتھ جینے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرلیں تو کوئی انہیں مِٹا نہیں سکتا۔ جناب سید شاہ شمس الدین قادری، ناظم شعبہ تنظیم نے درس قرآن دیا۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، امیر مقامی جماعت اسلامی ہندچارمینار نے اجتماع کی نظامت کی۔ عامتہ المسلمین کی کثیر تعداد نے اجتماع میں شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button