جنرل نیوز

انصاف روک کر جسٹس عقیل قریشی کو انصاف سے انکار کیا گیا ہے۔ آل انڈیا لائرس کونسل

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ آل انڈیا لائرس کونسل (AILC) نے کولیجیم کی جانب سے سپریم کورٹ کیلئے ترقی پانے والے ججوں کی فہرست میں سینئر ترین چیف جسٹس عقیل قریشی کا نام شامل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس عقیل قریشی ایک بار پھر امتیازی سلوک کا شکار دکھائی دیتے ہیں جب ان کا نام سپریم کورٹ کے کولیجیم نے کسی بھی وجہ کا حوالہ دیئے بغیر شامل نہیں کیا ہے۔ عقیل قریشی کو گجرات ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا تھا۔ انہوں نے 2010میں گینگسٹر سہراب الدین شیخ سے متعلق ایک مقدمے میں امیت شاہ کو سی بی آئی تحویل میں بھیج دیا جس پر مبینہ طور پر گجرات ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود طے شدہ پالیسی کے تحت انہیں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بنایا گیااور بطور چیف جسٹس تقرری کی امید میں ممبئی ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا لیکن انہیں ممبئی ہائی کورٹ میں بھی یہ عہدہ نہیں دیا گیا۔ کالیجیم نے ان کی سینئریاٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پران کی تقرری کی سفارش کی، لیکن مودی حکومت نے ان کے نام کو منظور نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے کولیجیم نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ان کی تقرری کی سفار کرتے ہوئے ایک اور قرار داد منظور کی، لیکن اس قرارداد کو روک دیا گیا، اس دوران گجرات ہائی کورٹ کی بار اسوسی ایشن نے عقیل قریشی کی بطور چیف جسٹص تعیناتی کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال کیاور یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں ایک ایس ایل پی دائر کیا۔ مودی حکومت نے ان حالات میں جسٹس عقیل قریشی کو تریپورہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا جس میں صرف 4جج ہیں اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کو مسترد کیا جہاں ہائی کورٹ ججوں کی تعداد 40ہے۔ جسٹس عقیل قریشی ہندوستان کے سینئر ترین چیف جسٹس ہیں۔ ان کے جونیئر جسٹسوں کو سپریم کورٹ میں ترقی کیلئے سفارش کی گئی ہے اور واحد طور پر انہیں ترقی دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جسٹس آر ایف نریمن، مبینہ طو رپر اصرار کررہے تھے جب وہ سپریم کورٹ کے کولیجم کا حصہ تھے کہ جسٹس قریشی جیسے سینئر جج کو دوسرے ناموں پر غور کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں ترقی دی جائے۔ اس کے نتیجے میں ججوں کی سپریم کورٹ میں ترقی کے حوالے سے ایک تعطل پیدا ہوا۔جسٹس نریمن 12اگست 2021کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں 5اراکین پر مشتمل کولیجیم کی تشکیل نو کے بعد ان کی ریٹائرمنٹ کے صرف دو دن بعد سپریم کورٹ میں 5ارکان پر مشتمل کولیجیم کی تشکیل نو کے بعد سپریم کورٹ کے نئے تشکیل شدہ کولیجیم نے 9ججس، 8ججس اور 1اڈوکیٹ کے ناموں کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کیلئے منظوری دی اور جسٹس قریشی کا نام چھوڑ دیا گیا۔ترقی پانے والے چیف جسٹس اور ججس ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تجربے اور مدت کے لحاظ سے جسٹس عقیل قریشی سے نسبتا جونیئر ہیں۔ ایک کنونشن کے طور پر سینئریاٹی کو اعلی ترجیح دی جاتی ہے۔ جسٹس قریشی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے سے انکار کردیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ میں ترقی دینے پر بھی غور نہیں کیا گیا جبکہ 9ججوں کو عدالت عظمی میں ترقی دیتے ہوئے کسی بھی عنصر کو مدنظر نہیں رکھا گیااور کولیجیم کی تجویز کردہ فہرست سے سینئر ججوں کا نام خارج کیا گیا ہے۔ آل انڈیا لائرس کونسل(AILC)عاجزانہ التماس کرتی ہے کہ جسٹس عقیل قریشی کو ان کا حق دیا جائے اور بظاہران کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو دور کیا جائے۔ قانونی برادری کی خواہش ہے کہ انصاف کو نہ صرف غالب ہونا چاہئے بلکہ عوامی نظرمیں بھی شفا ف ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button