زرعی قوانین کی طرح سی اے اے قانون کو بھی منسوخ کیا جائے۔ انڈین یونین مسلم لیگ قومی صدر پروفیسر قادر محی الدین

چنئی۔(پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یوایم ایل) کے قومی صدر پروفیسر قادر محی الدین نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی قوانین کی طرح سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کو بھی منسوخ کیا جانا چاہئے۔ مرکزی بی جے پی حکومت نے ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جن کی بھارتیہ کسان ایک سال سے شدید مخالفت کررہے تھے۔ہندوستان کے وزیر اعظم عزت مآب نریندر مودی نے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مرکزی حکومت 29نومبر سے منعقد ہونے والی ہندوستانی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے اقدامات کرے گی۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا ہندوستانی عوام نے خیر مقدم کیا ہے۔ زرعی قوانین منظور کرنے کے بعد مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ تین سال کی مدت تک تین زرعی ترمیمی ایکٹ کو لاگو کرنے کی کوشش نہیں کر ے گی۔تاہم، اس یقین دہانی کو 40سے زائد کسان یونینوں نے قبول نہیں کیا تھا۔ کسان تینوں زرعی قوانین کی منسوخی کے مطالبے کو لیکر ایک سال سے تحریک چلارہے ہیں۔ اس دوران کسانوں کی کئی جانیں قربان ہوچکی ہیں۔ ان کے پرعزم جدوجہد کے نتیجے میں مرکزی حکومت کا مذکورہ اعلان سامنے آیا ہے۔ ہٹ دھرمی ترک کرکے زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم کا اقدام قابل تحسین ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت کی طرف سے لایا گیا سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون)بل جس سے ملک بھر میں بدامنی اور غم وغصہ پھیلا تھا اور جس کی وجہ سے بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے اور بہت سے لوگوں کوجیلوں میں دن گزارنے پڑے تھے، اسے بھی فوری طور پر واپس لیا جاناچاہئے۔ جس خوش نیتی سے وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا ہے اسی خوش نیتی سے سی اے اے قانون کو بھی واپس لینا چاہئے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر قادرمحی الدین نے آخر میں کہا ہے کہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے والے قانون سازی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم سی اے اے قانون کو بھی قانون سازی کے ذریعے منسوخ کریں گے تو ملک کے عوام اس کا خیر مقدم کریں گے اور وزیر اعظم کو مبارکباددیں گے۔