جنرل نیوز

ایم سی ڈی میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے مجلس کو کامیاب کریں۔کلیم الحفیظ

دہلی میں بدعنوانی اور کرپشن اپنے عروج پر ہے،جو لوگ بدعنوانی ختم کرنے کے نام پر حکومت میں آئے تھے وہ خود بھی اس میں ملوث ہیں۔آج دہلی کا کوئی غریب اپنا مکان اس وقت تک نہیں بنا سکتا جب تک ایم سی ڈی اور پولس کو رشوت نہ دے۔مجلس جن وارڈوں میں کامیابی حاصل کرے گی وہاں سے بدعوانی کا خاتمہ کردے گی۔ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحادالمسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظنے کیا وہ دہلی کی کونڈلی اسمبلی کے ملاکالونی وارڈ آفس کے افتتاحی تقریب میں شامل شرکاء کو خطاب کررہے تھے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ بیرسٹر اسدالدین اویسی وہ اکیلے لیڈر ہیں جو ہر جگہ مظلوموں کی وکالت کرتے ہیں۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیش کا ہر خیر خواہ ان سے محبت کرتا ہے۔مجلس آئین پر یقین رکھتی ہے اور ملکی آئین کو بچانے کی جدو جہد کررہی ہے۔صدر مجلس نے کہا کہ اروند کیجریوال نے انا ہزارے کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف مہم چلائی تھی اور لوک پال کا وعدہ کیا تھا مگر آج ہر جگہ کرپشن ہے،کوئی بھی شخص اس وقت تک اپنا مکان نہیں بنا سکتا جب تک موٹی رقم رشوت میں نہ دے دے،اسے دہلی پولس کو بھی رشوت دینا پڑتی ہے اور ایم سی ڈی کے ملازمین کو بھی جس کا حصہ وارڈ کونسلر اور ایم ایل اے میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ایک غریب آدمی جتنی رقم اپنے مکان میں خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ اسے رشوت میں خرچ پڑنا پڑتی ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ ہم نے عام آدمی پارٹی کو اپنا خون دیا،جھولی بھر کر ووٹ دیے مگر بدلے میں ہمیں دہلی دنگا ملا۔یہ بنیوں کی سرکار ہے جہاں کسی دلت،پسماندہ اور اقلیت کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔انھوں نے کہا سرکاریں بالواسطہ بھی ظلم کررہی ہیں اور بلا واسطہ بھی،بالواسطہ ظلم یہ ہے کہ دہلی دنگوں میں خود پولس والوں نے بھی اقلیتوں کی دوکانوں اور مکانوں میں آگ لگائی،فسادیوں کے ساتھ مل کر گولیاں چلائیں،اور مظلوموں کے خلاف ہی مقدمات قائم کرکے جیل بھیج دیا۔بلاواسطہ ظلم یہ ہے کہ دہلی فساد کی جانچ رپورٹ جو حکومت کے ہی ادارے دہلی اقلیتی کمیشن نے شائع کی ہے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ اس ظلم کا بدلہ سیاسی اتحاد کے ذریے ہی لیا جاسکتا ہے،اس لیے آنے والے الیکشن میں دلتوں اور مسلمانوں کو متحد ہوکر بدعنوان سیاست کے خلاف ووٹ کرنا چاہئے۔اس موقع پر دہلی کلچرل ونگ کے کنوینر قاسم عثمانی،سیکریٹری راج کمار ڈھلور،راجیو ریاض،اور عبد الغفار صدیقی نے بھی اظہار خیال کیا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button