مضامین

اردو صحافت کے 200 سال مکمل۔ وقت جشن یا ماتم!

محمد یاسر اللہ شکیل

حیدرآباد:اردو صحافت کے 200 سالہ جشن پر صحافیوں کا مرثیہ دکنی زبان کے مشہور شاعر گلی نلگنڈوی نے کئی سال پہلے ایک طنزیہ نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا (منسٹر کی موت پہ چمچوں کا مرثیہ)

آج ہم اردو صحافت کا 200 سالہ جشن منارہے ہیں لیکن کیا یہ جشن موجودہ اردو صحافیوں کیلئے جشن ہے یا پھر ماضی کے سنہرے دور کو یاد کرکے آنسو بہانا ہے ۔ یہ صحافیوں کا مرثیہ اردو صحافت کے جشن پر لکھا گیا ہے کہتے ہیں کہ تحریک آزادی میں اردو صحافت نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ الہلال اور البلاق جیسے اخبارات شائع ہوا کرتے تھے ۔ 1836 سے 1857 میں دلی اردو اخبار شائع ہوا کرتا تھا ۔ اس وقت بھی اردو اخبارات کو کافی جدوجہد کرنی پڑرہی تھی حالانکہ یہ مختصر اور محدود پیمانے پر شائع ہوا کرتے تھے ۔ 1857 کے بعد لکھنو سے عود اخبار ‘ تہذیب الاخلاق ‘ اکملل اخبار ‘ شمس الاخبار ‘ کشفق الاخبار ‘ قاسم الاخباراور حیدرآباد سے آصف الاخبار بھی شائع ہوا کرتے تھے ۔ 1857 میں مولوی ناصر علی نے نصرت الاخبار ‘ نصرت الاسلام اور مہیرِ درخشاں کا آغاز کیا ۔ یہ وہ اور دور تھا جب ہندوستان تحریک آزادی کی غدر کی لڑائی ہوچکی تھی اور اس وقت ہر طرف تباہی ہوئی تھی ۔ اس کے بعد ہی کئی اردو اخبار شائع ہوئے ۔ لیکن ان اخبارات کو پذیرائی نہیں مل پائی اور آج بھی وہ سلسلہ جاری ہے۔ کئی چھوٹے اخبارات شائع ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت ردی کی ٹوکریوں تک محدود ہوجاتی ہے۔ یہی حال اردو کے صحافیوں کا ہے ۔ ہندوستان کے مشہور شعرا جن کی زندگیوں کسم پرسی میں گزری ‘ وظائف پر ان کی زندگی منحصر تھی لیکن آج ان کے نام پر اکیڈیمیاں ہیں ان کے نام سے ایوارڈ دیئے جاتے ہیں ۔ شروع سے ہی اردو کی یہ ستم ظرفی رہی کہ جب ضرورت ہوتی ہے اسے اس کا مقام نہیں ملتا ۔ لیکن بعد میں اس کےلئے جشن منائے جاتے ہیں۔ شعرا سے لے کر اردو صحافت کا حال ایسا ہی ہے ۔

حکومتوں کی طرف سے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کےلئے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی وعدے شاید پورا نہیں ہوتا ۔ اردو صحافیوں کے اپنے مسائل ہیں ۔ اُنہیں وہ مقام نہیں مل پاتا جس کے وہ مستحق ہیں ۔ ہم آج جشن منارہے ہیں لیکن اس جشن کی آڑ میں کوئی اس بات کا محاسبہ نہیں کررہا ہے کہ اردو صحافیوں کی حالت میں کیسے سدھار کیا جائے ۔ جب بھی صحافیوں کی بات آتی ہے ارباب مقتدر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوتا ۔ کئی صحافی اس دنیا سے رخصت بھی ہوگئے ۔ ان کے ورثا کو موثر امداد تک فراہم نہیں کی گئی ۔ 1857کی بغاوت میں اردو صحافت کا اہم رول رہا تھا اور اس کے بعد 1947 تک آزادی کےلئے جو تحریک چلائی گئیں اس میں بھی اردو صحافت نے جان ڈال دی تھی ۔ لیکن آج اردو صحافت کو بے جان بنادیا گیا ۔ جتنے بھی وعدے کئے جاتے ہیں اس میں وفا نظر نہیں آتی ۔ صحافیوں کی امداد کے معاملے میں صرف اعلانات اور وعدے ہوتے ہیں ۔ آپ خود اپنی حق گوئی بیان کیجئے کہ کیا موجودہ حالات میںجس طرح سے اردو کے صحافیوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے ایسے میں ہمیں جشن منانا چاہئے یا ماتم ۔

آج دور حاضر کے ارباب مقتدر نے بھی کئی وعدے کئے لیکن افسوس کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ مشہور مزاحیہ شاعر صبغت اللہ بمباٹ نے ایک قطعہ میں جھوٹے وعدوں کو اس طرح سے بیان کیا ہے شاید یہی ہماری مجبوری اور بے بسی کا حل ہے ۔

کچھ کیجئے ہمارا مقدر بنایئےا

ن خشک پتیوں کو گُل تر بنایئے

معشوق جیسے وعدوں سے مصیبت نہ جائے گی

ہم سب کو چند روز منسٹر بنایئے

متعلقہ خبریں

Back to top button