مضامین

چندے کی لوٹ سترک رہیں

شفیع احمد قاسمی خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد گجرات
عموماً کسی سماجی یا رفاہی خدمت کے لیے مالی تعاون و امداد کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں ہے،
کسی ادارہ یا تنظیم کو چلانے اور اسے فعال و متحرک رکھنے کے لئے مالی فراہمی اور چندہ از حد ضروری ہے، اس کے لئے مالیات کا مستقل ایک شعبہ وجود میں لایا جاتا ہے، عموماً چندے کی وصولی کے لئے کچھ ایسے افراد منتخب کئے جاتے ہیں ،جو اس فن کے مرد میدان ہوں، کسی سماجی اور رفاہی کام کیلئے چندہ اکٹھا کرنا کوئی معیوب چیز نہیں ہے، اسلئے کہ سنت نبوی سے اس کا ثبوت بہم پہونچتا ہے، چنانچہ غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول پاک صلی اللہُ علیہِ وسلم نے اپنے جانثار صحابہ کرام سے مالی تعاون کی اپیل کی، تو گروہ صحابہ میں سے ہر ایک نے اپنی بساط کے موافق بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کے نتیجہ میں راہ خدا میں مال دینے کا مختلف رنگ و انداز امت کے سامنے نکھر کر آیا، ایک طرف حضرات شیخین کا راہ خدا میں مال لٹانے کا عاشقانہ انداز منظر عام پر آیا ، جس میں سیدنا عمر بن خطاب نے اپنے گھر کا آدھا مال بارگاہ نبوی میں پیش کیا، تو یار غار ابوبکر بن قحافہ نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ دربار رسالت میں حاضر کردیا، تو دوسری طرف ایک مفلس و قلاش صحابی رسول ابو عقیل انصاری کا واقعہ ہمارے لئے درس عبرت اور سبق آموز ہے، جنہوں نے مزدوری کرکے دو سیر کھجور حاصل کی، ایک سیر اہل وعیال اور گھر والوں کو دے آئے ،اور دوسرا سیر بارگاہِ نبوت میں پیش کر دیا ، دربار اللہی میں ان کا یہ صدقہ اس درجہ مقبول ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے اوپر ان کا مال رکھا ،
قوم و ملت کے فلاح و بہبود کیلئے مالی فراہمی کرنا بہت اونچا کام ہے، لیکن اس لائن میں کچھ فراڈ اور خائن لوگوں کی مداخلت سے اور کچھ لوگوں کے کمیشن پر چندہ کرنے کی وجہ سے یہ کام حد درجہ معیوب و مبغوض سمجھا جانے لگا ہے، اور اب اس عظیم کام کو بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے، ایسا نہیں کہ فراڈ اور فریب دہی میں صرف ہماری قوم کے افراد ہی ملوث ہیں ،بلکہ آئے دن ہمارے برادران وطن بھی پکڑے جاتے ہیں، جو مسلمانوں کا لباس و پوشاک پہن کر اور ان کی طرح بھیس بنا کر مسلمانوں کی گاڑھی کمائی بٹور کر لے جارہے ہیں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ان مسلم خائنوں اور فراڈیوں کا سمرتھن کررہا ہوں،اور میں ان کی اس خیانت و فریب دہی کو جائز ٹھہرا رہا ہوں، بلکل نہیں، بلکہ اگر کوئی مسلم شخص کسی ادارہ و تنظیم یا کسی عبادت گاہ کے نام پر جھوٹ بول کر وصول کر رہا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ان سے پوچھ تاچھ کریں ، اور آئندہ انہیں اس طرح فراڈ کرنے سے روکنے کیلئے مناسب اور ٹھوس قدم اٹھائیں ،تاکہ وہ باز آجائیں ،اور قوم کا پیسہ صحیح جگہ پر پہونچے اور صحیح مصرف میں استعمال کیا جائے،

بھیس بدل کر چندہ کی وصولی

آج کل سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں وقفے وقفے سے آتی رہتی ہیں، کہ فلاں علاقے میں دو غیر مسلم شخص مسلمانوں کا روپ دھار کر مالی فراہمی کر رہے ہیں ، پھر  وہ پکڑے جاتے ہیں، اور لوگ ان کی ویڈیو بنا کر وائرل کرتے ہیں، جس سے ہم تک یہ خبریں پہونچتی ہیں، اور اس میں شبہ نہیں کہ اس طرح کی بہت سی خبریں تو ہم تک پہونچ بھی نہیں پاتی، ظاہر ہے کہ اس کی تعداد روز افزوں بڑھتی جارہی ہے ، اور قوم کی گاڑھی کمائی غلط جگہ پہونچ رہی ہے، اور بے محل استعمال ہورہی ہے ،یہ انتہائی افسوسناک اور فکر انگیز بات ہے، ابھی دو چار دن پہلے کی بات ہے، سوشل میڈیا پر پرتاب گڑھ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ،جس میں بھانو چمار نامی ایک شخص مسجد کی تعمیر کے نام پر چندہ وصولی کر رہا تھا،  لوگوں کے پوچھنے پر اس نے یہ اعتراف کیا،کہ تعمیر مسجد کے لیے وصولی وہ تین سال سے کر رہا تھا،
اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اس کا لباس و وضع قطع  مولویانہ تھا ، چہرے پر گھنی داڑھی دیکھنے میں کسی ولی کامل سے کم نہیں ،لوگوں کے پوچھنے پر وہ اپنا نام مشتاق انصاری بتاتا تھا، گویا کسی طرح بھی وہ فراڈیہ معلوم نہیں ہوتا تھا ،سرائے مکئی گاؤں کے لوگوں نے جب اس کا آدھار کارڈ چیک کیا، تو اس میں درج نام بھانو چمار تھا، لوگوں نے اس کا یہ نام دیکھ کر دانتوں تلے اپنی انگلیاں دبا لیں، پہلے اس طرح کا واقعہ کبھی اکا دکا  ہوجایا کرتا تھا،  لیکن اب ان جیسے واقعات کا تسلسل بندھ گیا ہے، آئے دن سننے میں آتا ہے، لہذا  اس سلسلے میں اب انتہائی دور اندیشی کے ساتھ اس پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے، میرے ناقص خیال میں اس کی بہتر تدبیر یہ ہے، کہ ہر مسجد کے ٹرسٹ چوکنا رہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی چوکس رہیں، جب کوئی شخص مالی فراہمی کے لئے آئے، پہلی فرصت میں اس کا آھار کارڈ چیک کیا جائے، جس سے اس کے صحیح یا غلط کی تمیز کی جاسکے ،یا اس کے پرکھنے اور جانچنے کے جو بھی مناسب طریقے ہوں انہیں اپنایا جائے ،پھر اسے چندہ دیں ،
مذکورہ بالا واقعہ میں دو باتیں غور طلب ہیں،پہلی یہ کہ تعمیر مسجد کے لیے چندہ بڑی سہولت سے جلد ہوجاتا ہے، اور وافر مقدار میں وصول ہوجاتا ہے، بخلاف دوسرے کسی دینی اور ملی ادارہ کے نام پر اس قدر چندہ نہیں ہوتا ہے، دوسری یہ کہ آپ اندازہ لگائیں کہ تین سال کے عرصہ میں اس نے تعمیر مسجد کے نام پر کس قدر رقم جمع کر لی ہوگی، اور ہماری قوم کا ایک بڑا سرمایہ اس نام پر برباد ہوگیا، لہذا آپ چندہ دینے میں سترک رہیں اور دینے پہلے خوب جانچ پڑتال کر لیں پھر چندہ دیں .

متعلقہ خبریں

Back to top button