مضامین

ملا رموزی: شخصیت اور خدمات

ملا رموزی:جن کااصل نام محمد صدیق تھا۔18جولائی سن 1896ء میں ریاست بھوپال بھارت میں پیدا ہوئے۔ خاندانی سلسلے سے سید افغانی تھے۔ ابتدا میں حافظ قرآن ہوئے۔ پھر چند مقامی مدارس میں تعلیم کے بعد انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں دار العلوم الہیات کانپور سے اعزازی سند فضیلیت حاصل کی۔ملا رموزی کی مادری زبان پشتو تھی۔ گلابی اُردو کے موجد اور جن کی وجہ سے شہر بھوپال نے ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔ ملا رموزی کی مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود انہوں نے اردو میں اپنا مخصوص ظریفانہ اسلوب ایجاد کیا جو بعد ازاں ”گلابی اردو“ کے نام سے مشہور و مقبول ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ العلما کے فارغ التحصیل ملا رموزی صاحب قلم ہونے کے ساتھ ساتھ غضب کے مقرر اور آتش بیان خطیب بھی تھے۔ ان کی تیس (30) کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ”ملا رموزی سنسکرتی بھون (بان گنگا روڈ، بھوپال)“ بھوپال اُردو اکیڈمی کی جانب سے ان کی یاد میں قائم کردہ عمارت ہے۔
ایک خصوصی شگفتہ مقدمہ اور 8 دلچسپ مضامین پر مشتمل ملا رموزی کی یہ قابل مطالعہ یادگار کتاب”لاٹھی اور بھینس“ تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل (صفحات: 115) کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ملا رموزی اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
واضح ہو کہ اس کتاب کا نام”لاٹھی اور بھینس“ ہے اور یہ اصطلاح خصوصیت سے جبر اور سیاسی مواقع کے اعتبار سے مستعمل ہے۔ لیکن اس کتاب کو سیاست سے تعلق نہ ہونے پر جو یہ نام دیا گیا ہے تو اس لیے کہ بھینس کے قصے والی کتاب کا نام ”عبداللہ خاں“ یا”مسماۃ رحیماً“ بھی نہیں رکھا جا سکتا تھا، اور صرف ”بھینس“ یا ”بھینس نامہ“ نام رکھنے کو میرا ذوق پسند نہیں کرتا تھا، اس لیے محض نام کو قدرے شائستہ بنانے کے لیے یہ نام رکھا کہ سند ہو اور وقت ضرورت مجھ ملا رموزی کے کام آئے۔
ملا رموزی 10جنوری 1952ء کو اس فانی دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئے۔ ادبی دنیا ان کی کمی کو ہمیشہ محسوس کریں گے۔
٭٭٭٭٭
بے۔نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی
اُسیا رسورٹ(کوینس ہوم) کوہِ فضا، احمدآباد پیلس روڈ،بھوپال۔۱۰۰۶۴(ایم۔پی)ای۔میل:- taha2357ind@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button