نیشنل

آسام،تریپورہ،گروگرام میں مسلمانوں اور ملک بھرمیں ایس سی، ایس ٹیز پر مظالم کے خلاف انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمان ای ٹی محمد بشیر نے لوک سبھا میں اٹھائی آواز

چینئی:انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے نیشنل آرگنائزنگ سکریٹری ای ٹی محمد بشیر ایم پی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر میں ملک میں حالیہ دنوں میں آسام، تریپورہ ریاستوں میں مسلمانوں پر ہوئے حملے اور ملک بھر میں ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں پر ہورہے مظالم اور گڑگاؤں (گروگرام) میں اقلیتوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے اورفرقہ وارانہ تنظیموں کی جانب سے نمازیوں پر حملہ کئے جانے کے خلاف آواز اٹھائی۔ ای ٹی محمد بشیر (پننانی)نے اپنی تقریر میں کہا کہ عزت مآب چیئر پرسن، جناب، میں اس عظیم ایوان کی توجہ ایس سی، ایس ٹی، دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے مظالم کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے معامالات میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ میں نے حال ہی میں آسام کے گارو گھاٹی پروجیکٹ علاقے کا دورہ کیا جہاں میں نے دیکھا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کو ان جگہوں سے بھگایا جارہا ہے جہاں وہ برسوں سے ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ اسی طرح ہم دوسری جگہوں پر بھی اسی طرح کے مظالم کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ آپ کو تریپورہ کا واقعہ بخوبی معلوم ہے جہاں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسجدوں کو مسمار کرنے اور مظالم کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ یہ سب بہت افسوسناک باتیں ہیں۔یہ سب کچھ معصو م لوگوں کو اذیت دینے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں کرناٹک میں ایک چرچ پر حملہ ہوا ہے، یہ بھی ایک تشویشناک موضوع ہے۔ جناب، میں آپ کو سب سے افسوسناک بات بتاؤں گا، گروگرام کے قریب ایک پرانے علاقے میں، پچھلے دو تین مہینوں سے جمعہ کی با جماعت نماز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے، وہاں یہ ہورہا ہے کہ بربریت ہورہی ہے، یہ غنڈے کیا کررہے ہیں کہ جب لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے آئے ہیں و ان پر حملہ کرتے ہیں اور ہر طرح کا ظلم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک دکھ بھری کہانی ہے۔ لوگ اس کی شکایت کررہے ہیں، یہ طاقت کے غلط استعمال کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پولیس اہلکار خاموش تماشائی بن کر کھڑے ہیں اور جب اس قسم کے واقعات ہورہے ہیں تو کوئی کارروائی نہیں کررہے ہیں۔ یہ معصوم مسلمان کیا کرہے ہیں کہ وہ اپنی جان کے خوف سے اس جگہ سے فرار ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس علاقے میں تقریبا 4,25,000مسلمان آبا دہیں۔ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب انہیں باجماعت نماز ادا کرنے سے انکار کیا جائے گا تو ان کی کیا حالت ہوگی۔ یہ ایوان اس پر سنجیدگی سے سوچ سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں نفرت انگیز تقاریر بھی پھیل رہی ہیں۔ اسلامو فوبیا کا ایک قسم کا پروپگینڈہ ہے۔ یہ اس ملک کی انتہائی اہم سیکولر فطرت کو خراب کررہا ہے۔

آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آئینی حقوق پر ایک کیلئے ہیں، کسی خاص مذہب کیلئے نہیں، جب یہ آئین نے ضمانت دی ہے تو میں حکومت سے انصاف کرنے کی اپیل کرتا ہوں، خواہ، وہ ایس سی، ایس ٹی، یا اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ہندوستان کے بیٹے ہیں اور وہ ہندوستان کی آبادی ہیں۔ لہذا، میں جس چیز کی اپیل کررہا ہوں وہ صرف ایس سی، اس ٹی اور اقلیتوں کیلئے انصاف ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button