موت کا ایک دن متعین ہے

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
قرآن کریم میں اللّٰہ ربّ العزت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور اس سے کسی حال میں بچنا ممکن نہیں ہے، انسان جہاں کہیں ہوگا موت اسے آلے گی، چاہے وہ شیشہ پلائی ہوئ دیوار کے اندر ہی کیوں نہ ہو، اللّٰہ ربّ العزت نے ہر نفس کے لئے موت کا وقت مقرر کررکھا ہے، جب وہ وقت آجاتاہے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے منٹوں، سکنڈوں بلکہ پلک جھپکنے تک مؤخر کرنے پر قادر نہیں ہے؛ انسان دنیاوی راحت و آرام، مشغولیات اور کاروبار زندگی میں اس طرح الجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ سامنے کی  یہ حقیقت عملاً اس کے ذہن و دماغ سے محو ہوجاتی ہے اور آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب آنکھ بند ہونے کا وقت آچکا ہوتا ہے، حضرت مولانا سید محمد شمس الحق صاحب رح سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر نے اس حقیقت کو ایک جملے میں بیان کیا کہ وقت کی اہمیت کا اندازہ مرنے کے وقت ہوتا ہے،
مرنے کا وقت اللّٰہ کی طرف سے کس کے لیے کیا مقرر ہے اس کا علم کسی انسان بلکہ اولیاء اللہ اور انبیاء کرام تک کو نہیں دیا گیا، اس علم کو اللہ نے اپنے پاس محفوظ رکھا، کسی کو نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں اور کب مرجاۓ گا، اگر اس حقیقت کو بیان کردیا جاتا تو انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی اور اس کی ساری توانائ موت کے دن گننے میں لگ جاتی، پھر وہ کسی اور کام کا نہیں رہ جاتا؛ بالکل اسی طرح جس طرح پھانسی پانے والے مجرم کا حال ہوتا ہے کہ اسے ہر حال میں اپنی موت ہی یاد رہتی ہے اور زندگی کی ساری رعنائیاں اور شادابیاں اسی فکر کی نظر ہوجاتی ہیں اور سزا کا دن آجاتاہے، اس نظریے سے دیکھیں تو یہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہم سب سے موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا ہے ؛تاکہ ہم دنیا کی خوش گوار فضا میں زندگی گزارتے رہیں۔
ہمیں مرنا ہے، یقینی مرنا ہے؛لیکن یہ زندگی ہماری اپنی نہیں، اللہ کی عطا کردہ ہے، اس لیے اس زندگی کو ختم کرنے کی ہماری طرف سے کوئی کوشش اللہ کو پسند نہیں ہے، اللہ نے اس سلسلے میں واضح حکم دیا کہ اپنے کو ہلاکت میں مت ڈالو، کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے تمہاری زندگی کو خطرہ لاحق ہوجائے، آگ میں کود پڑنا، دریا میں ڈوب جانا اور ریل کی پٹریوں پر خود کو ڈال کر اپنے کو ہلاک کر لینا بلکہ کہنا چاہیے کہ خود کشی کی ساری کوششیں اسی لیے مذموم ہیں اور ایسے شخص کے لیے اخروی عذاب کا ذکر احادیث میں کھلے لفظوں میں کیا گیا ہے۔
اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کی عملی شکل ایک یہ بھی ہے کہ آدمی وبا کے دور میں ان پابندیوں کو نہ برتے جو حکماء، ڈاکٹر اور معالجین بیان کیا کرتے ہیں، اس سلسلے میں احادیث میں واضح رہنمائی ملتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدرات اٹل ہونے کے باوجود ہمیں احتیاطی تدابیر کی ان دیکھی نہیں کرنی چاہیے، حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے خارش زدہ اونٹوں کو الگ رکھنے کی ہدایت دی، کوڑھیوں سے دور رہنے کی تلقین کی، طاعون زدہ علاقوں سے آمد و رفت کو منع کیا اور فرمایا کہ خوف زدہ ہو کر کوئی نہ بھاگے۔یہ ارشادات بتاتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جائے ہر اعتبار سے شرعی ہے، بعض لوگ ان تدابیر کو توکل کے خلاف سمجھتے ہیں، یہ صحیح نہیں کیونکہ توکل کا مطلب تدبیر کی ان دیکھی نہیں ہے؛ بلکہ تدبیر کے درجہ میں اونٹ کے پاؤں میں رسی باندھنی ہے؛ پھر اللہ پر بھروسہ کرنا ہے کہ اب یہ اونٹ ادھر ادھر نہیں جاۓ گا،یہی حال بیماری میں احتیاط و تدبیر کا ہے اسے پورے طور پر برتنا ہے اور پھر اپنی صحت و عافیت کے لئے اللہ سے دعا کرنی ہے، بڑوں نے لکھا ہے کہ تدبیر اس طرح کرنی ہے گویا یہی سب کچھ ہے اور اللہ سے اس طرح گڑگڑا کر دعا کرنی ہے کہ اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے، در اصل دنیا دارالاسباب ہے، اللہ بغیر اسباب کے بھی سب کچھ کرنے پر قادر ہے؛ لیکن اللہ کا یہ عمومی طریقہ نہیں ہے،وہ اسباب کی فراہمی کے بعد ہمیں دیتاہے،  اس حقیقت کو ہر وقت ذہن نشیں رکھنے کی ضرورت ہے.
ان سب مراحل سے گذرنے کے بعد اب جو چیز سامنے آئے اس کو من جانب اللہ سمجھ کر راضی رہنا یہ ایمان والوں کی شان ہے، راضی برضاء الہی رہنا اسی کو کہتے ہیں، ایسے مواقع سے جب ناخوش گوار واقعات کثرت سے آرہے ہوں،جزع فزع، آہ و بکا کے بجائے یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہیے کہ بہت سے ایسے خوش گوار واقعات ہوتے ہیں جسے بندہ اپنے علم و یقین سے اچھا سمجھتا ہے؛لیکن حقیقت میں وہ اچھے نہیں ہوتے اور بہت سے واقعات ناخوش گوار ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر سے خوش گوار پہلو نکل آتا ہے یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے بندہ نہیں جانتا۔
ان دنوں کرونا کے وباء نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا رکھا ہے، جوان، بوڑھے، بچے سب اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں، ہر دن ہزاروں کی تعداد میں لوگ دنیا سے جارہے ہیں، جو بڑے اہل علم،ادیب اور دانشور ہیں ان کی موت کی خبر مختلف ذرائع ابلاغ سے ہم لوگوں تک پہونچ رہی ہے، ایک بڑی تعداد عام لوگوں کی ہے جن کی موت کی خبر ہم تک نہیں پہونچ پاتی، ان چند لوگوں کی موت کی خبر سے بھی ہمارا دل دہل رہا ہے اور ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اگلا نمبر میرا ہی ہے، بحیثیت مسلمان ہمیں اس قدر وحشت اور دہشت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ موت کا ایک دن معین ہے، آپ اس معین وقت و دن کو نہیں جانتے پھر کیوں اس فکر اور وہم میں اپنی زندگی خراب کرتے ہیں کہ میرا نمبر آنے ہی والا ہے ؛ جب آنا ہوگا آجاۓ گا، ہم اسے روک تو نہیں سکتے؛ اس لیے جو زندگی بچ گئی ہے اس کو اللہ کی رضاکے حصول کے لیے استعمال کرلیجئے تو اس سے دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت میں بھی ہم کامیاب و کامران ہوں گے۔
اس احساس، فکر اور عمل کے ساتھ اس مرض سے بچنے کے لئے جو احتیاطی تدابیر ہیں اس کو لازماً اپنانا چاہیے، مساجد کا عبادت کے لیے بند ہونا اور عام لوگوں کے داخلے پرپابندی یقیناً مسلمانوں کے لیے سوہان روح ہے، ہم مسجدکی باجماعت نمازوں کا ثواب نہیں حاصل کرپارہے ہیں؛ لیکن بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کی اگر یہ شکل کسی درجہ میں ہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے؛ یقیناً یہ ایک افسوس ناک صورت حال ہے ؛لیکن ہمارے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، پنج وقتہ نماز باجماعت کا اہتمام گھروں میں بھی ہوسکتا ہے، تراویح، تہجد کی نفلی نمازوں کی ادائیگی گھر میں کرنے سے ہمیں کون روک رہا ہے، بلکہ نفلی نمازوں کی ادائیگی گھروں میں افضل ہے، تلاوت قرآن اور اوراد و اذکار گھروں میں  زیادہ یکسو ہو کر کیے جاسکتے ہیں، ان تمام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے اور موت کا خوف دل سے نکال دیجیۓ؛کیوں کہ وہ تو آنی ہی ہے اور اپنے وقت پر آنی ہے۔