محمد صدیق منشاوی کی آواز 50 سال بعد بھی تازہ۔ملک پیٹ میں منشاوی ہال کی رونمائی تقریب سے قاری نصیر الدین منشاوی کا خطاب

حیدرآباد۔ 22 نومبر (پریس نوٹ) عالم اسلام کے ممتاز و افسانوی قاری شیخ محمد صدیق المنشاوی کی تلاوتوں میں اخلاص اور للہیت ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کی رحلت کے 50 سال بعد بھی وہ اور ان کی آواز ساری دنیا میں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ اور تازہ ہے اور مسلمان ان کی خوف و خشیت میں ڈوبی تلاوت کو سن کر اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہیں اور روح کو تسکین پہونچاتے ہیں۔ جہاں دیگر مشاہیر قراء کو سن کر واہ نکلتی ہے وہیں شیخ منشاوی کو سن کر آہ نکلتی ہے۔ ان کی قرأت میں وہ مٹھاس اور مقناطیسی کشش ہے کہ ان کا نام جانے بغیر المنشا، قاہرہ سے ساڑھے 5 ہزار کروڑ کیلو میٹردور کاماریڈی کے ایک چھوٹے قریہ میں نوجوان رات کی تاریکی میں آپ کی قرأت سنتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی حیات میں ہی آپ لیبیا، عراق، انڈونیشیا، شام کے محلات سے لے کر مسجد اقصیٰ اپنی تلاوتوں سے سامعین کو رلاتے نظر آتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ممتاز حافظ و قاری ڈاکٹر محمد نصیر منشاوی ڈائریکٹر شرفیہ قرأت اکیڈیمی نے کیا۔ وہ شرفیہ قرأت اکیڈیمی قدیم ملک پیٹ کے دفتر میں منشاوی ہال کی گرہ کشائی و رسم رونمائی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ قاری نصیر منشاوی نے کہا کہ اس ہال کو عالم اسلام کے اس ممتاز و عظیم قاری سے موسوم کیا جرہا ہے۔ انھو ں نے بتایا کہ اس ہال میں مفت قرأت و تجوید کی تعلیم دی جائے گی اور ہر اتوار کو بعد نماز فجر تا صبح 9 بجے تعلیم بالغاں کا اہتمام کیا جائے گا۔ اتوار کی شب ہونے والی اس تقریب میں حافظ و قاری محمد شعیب شرف الدین نے اپنی قرأت سے سماں باندھ دیا۔ اس موقع پر قاری شعیب نے ہی شیخ محمد صدیق منشاوی کی زندگی پر تحریرکردہ عربی مقالے پیش کیا۔ کمسن قاری محمد زکریہ شرف الدین کی قرأت سے محفل کا آغاز ہوا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے انعامات حاصل کرنے والے متعدد قراء نے تلاوت کی۔ قاری محمد نصیر الدین منشاوی کی دعاء اور شکریہ پر محفل کا اختتام ہوا۔ ڈائریکٹر اردو اکیڈیمی محمد غوث، میر محتشم علی اور دیگر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔