اعلیٰ تعلیم میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف 16 فیصد

اردو یونیورسٹی کا 25 واں یومِ تاسیس ۔ پروفیسر سکھدیو تھوراٹ کا لیکچر۔ پروفیسر عین الحسن کی صدارت

حیدرآباد، 9 جنوری (پریس نوٹ) ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلمانوں کے داخلے کی مجموعی شرح صرف 16.6 فیصد ہے۔ جو تمام اقلیتی طبقات میں سب سے کم ہے۔ جین طبقے کی داخلہ شرح سب سے زیادہ 72فیصد ہے۔ جبکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ہندو طبقے کا مجموعی داخلہ 27.8 فیصد ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے تعلق سے یہ چونکا دینے والا انکشاف ممتاز ماہر معاشیات و سابق صدر نشین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن پروفیسر سکھدیو تھوراٹ نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے 25 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے خصوصی آن لائن لیکچر بعنوان ”اعلیٰ تعلیم میں مسلمان کہاں پیچھے رہ گئے؟ : پالیسیوں کے لیے اسباق“ میں کیا۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ اس تقریب میں اردو یونیورسٹی جشن سیمیں کا مونتاج بھی جاری کیا گیا۔ جسے انسٹرکشنل میڈیا سنٹر نے تیار کیا ہے۔

پروفیسر تھوراٹ نے 2017/18 کے نیشنل سیمپل سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی مجبوریوں کے سبب 70 فیصد مسلمان اعلیٰ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس شعبے میں مسلمانوں کی تشویشناک حد تک کم نمائندگی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر تھوراٹ نے جو جے این یو، نئی دہلی کے پروفیسر ایمیریٹس بھی ہیں کہا کہ سرکاری اور خانگی ملازمتوں میں تقررات کو لے کر مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں امتیازی سلوک کے اندیشے بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مانع بن جاتے ہیں۔ پروفیسر تھوراٹ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلمانوں کے تناسب میں بہتری کے لیے حکومتی سطح پر جارحانہ اور ترقی پسندانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اردو یونیورسٹی سے اپنے دیرینہ تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے جامعہ کی غیر معمولی ترقی پر اطمینان اور انبساط کا اظہار کیا۔ پروفیسر تھوراٹ نے اردو یونیورسٹی کو مشورہ دیا کہ وہ لڑکیوں کے داخلے میں اضافہ اور غریب طلبہ کے سلسلہ تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے مثبت اقدامات کرے۔ یونیورسٹی تجارت اور کاروبار کے فروغ کے لیے مختصر مدتی کورسس بھی شروع کرسکتی ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہونے والے بیشتر طلبہ کا تعلق چھوٹے کاروباری گھرانوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طلبہ کی مدد کے لیے یونیورسٹی کو خصوصی رعایتی فیس کا نظم اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے آخر میں سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے صدارتی خطاب میں پروفیسر تھوراٹ کے چشم کشا لیکچر کو مانو کے جشن سیمیں کا بہترین آغاز قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اردو، مانو کا تشخص بھی ہے اور میڈیٹ بھی اور یہی ہماری پہچان رہے گی۔ شیخ الجامعہ نے یونیورسٹی کی ترقی کے لیے دیگر اداروں کے ساتھ اشتراک کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مہمان مقرر نے صنفی مساوات کی بات کی ہے اور ہم بھی مانو میں اس کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا اعلیٰ تعلیم میں تناسب 16.6 فیصد انتہائی کم ہے۔ اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ مانو کا کام روزگار فراہم کرنا نہیں لیکن اردو کے کاز کے لیے یونیورسٹی نے 6جنوری کو اولین جاب میلے کا اہتمام کیا تھا جو کووڈ کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔ انہوں نے اس موضوع کے انتخاب اور اس پُرمغز لیکچر کے لیے پروفیسر سکھدیو تھوراٹ کا شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے اردو کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہند- آریائی زبانوں کی آمیزش کے ذریعہ ایک لشکری زبان پیدا ہوئی۔ جسے آج لوگ اردو کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ترقی کرتے ہوئے سرکاری اور ذریعہ تعلیم کی زبان بھی بنی۔ پھر تنزلی کا شکار ہوگئی اور دینی مدارس اس کی بقا کا باعث بنے۔ اس طرح اردو کی بقاءو ترقی کے لیے اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یونیورسٹی، اردو کے فروغ میں نمایاں رول ادا کر رہی ہے۔ نئے شیخ الجامعہ، پروفیسر سید عین الحسن نے اس یونیورسٹی کی باگ ڈور سنبھالی ہے وہ اسے مزید ترقی دینے کے لیے منصوبے رکھتے ہیں جن پر وقتاً فوقتاً عمل ہوگا۔ انہوں نے پروفیسر سکھدیو رتھوراٹ کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے سابقہ وائس چانسلرس کا شکریہ ادا کیا جن کے وژن اور مشن نے اس یونیورسٹی کو موجودہ مقام پر پہنچا دیا۔

پروفیسر صدیقی محمد محمودنے مہمان مقرر وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور دیگر کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جشن سیمیں کے لیے سب کو مبارکباد دی اور اسے یومِ احتساب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کا قیام ایک تحریک کا آغاز تھا جسے آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے سبھی بہی خواہان، طلبہ، اسٹاف سے اپیل کی وہ یونیورسٹی کی ترقی میں تعاون کریں۔ پروفیسر محمد فریاد، انچارج پی آر او نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے یومِ تاسیس اور جشنِ سیمیں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کاروائی چلائی۔ عاشق الرحمن، ایم اے اسلامک اسٹڈیز کی قرات کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔ کثیر تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کے ارکان نے تقریب کا آن لائن مشاہدہ کیا۔