اساتذہ کوفرنٹ لائن وارئیرس قرار دیا جائے_ آئیٹا کامرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ

 

*آل انڈیا آ ئیڈیل ٹیچرس ایسوسیشن* (آئیٹا) نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ملک میں کوڈ -19کی دوسری لہر کے چلتے جو انتہائی بھیانک صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ آ ئے دن ہر ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں اموات واقع ہورہے ہیں۔ اس پر قومی صدر جناب شیخ عبد الرحیم صاحب نے کافی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کے پیدا ہونے میں جہاں ایک طرف نجی اسپتال کی غیر ذمہ داران حرکتیں ہیں تو ہوئیں اسکو حکومت کی بدنظمی قرار دیا ہے

 

۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے جہاں غیر سرکاری تنظمیں متحرک ہیں تو وہیں سرکاراپنے ملازمین کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔ آ ئیٹا چونکہ اساتذہ کی تنظیم ہے تو وہ اساتذہ برادری پر ہورہے کام کے دباؤ کو لیکر بھی فکر مند ہے باوجود اسکے اساتذہ کو فرنٹ لائن واریرس میں شمار نہیں کیا گیا مگر فرنٹ لائن واریرس کے شانہ بہ شانہ اور قدم بہ قدم ملا کر اپنی جانوں کو داؤ پر لگاتے ہوئےخدمات انجا م دے رہے ہیں۔ اس خدمت کو انجام دینے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں کئی اساتذہ اس وبا کا شکار ہوئے اور اپنی قیمتی جانیں گنوائی خصوصا اتر پردیش میں پانچ سو سے زائد اساتذہ موت کی نظر ہوئے مگر افسوس کے حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ لہذا آ ئیٹا تمام ہی ریاستوں کی اس غیر ذمہ داران رویہ کی مذمت کی ہے اور تما م ریاستی حکومتوں اور خصوصاً حکومت اتر پردیش سے مطالبہ کرتی ہے جو اساتذہ جاں بحق ہوئے ہیں انکو فرنٹ لائن واریرس کے زمرہ میں شامل کرتے ہوئے انکے متعلقین کو معاوضہ دیا جائے اور انکے اہل خانہ میں کسی فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے

 

۔ ساتھ ہی آئیٹا مرکزی حکومت اور تمام ریاستوں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کو اس کام سے بری کردیں تاکہ وہ اپنے میدان کی خدمات کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں چونکہ ملک کا مستقبل انکے ہاتھ میں ہے ان کی صحت اچھی تو ملک کی تعلیم بھی بہتر اور مستقبل بھی تابناک۔