جئے پور لشکر طیبہ معاملہ 14/ سال کی سزا پانے والے شخص کی عبوری ضمانت کی عرضداشت سپریم کورٹ میں داخل

ممبئی4 مئی_ دہشت گردی کے الزامات کے تحت 14/ سال قیدبا مشقت کی سزا پانے والے ایک مسلم شخص کی عبوری ضمانت پررہائی کی عرضداشت سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی گئی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے حتمی بحث کی سماعت کرنے سے سپریم کورٹ نے معذرت کرلی ہے۔ عدالت سے گذارش کی گئی ہیکہ عرض گذار ابتک جیل میں ساڑھے دس سال گزار چکا ہے اور اس کے 85 سالہ والدین جو شدید بیماری میں مبتلا ہیں کے علاج و معالجہ کے لیئے عرض گذار کو عبوری ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے تاکہ وہ جیل سے رہا ہوکر والدین کی کچھ خدمت کرسکے۔
عرض گذار حافظ عبدالمجید کی عبوری ضمانت پر رہائی کی عرضداشت ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل کی ہے جس پر جلد سماعت متوقع ہے۔
عبوری ضمانت عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ اس سے قبل بھی عدالت نے عرض گذار کو ایک ماہ کی عبوری ضمانت دی تھی،ضمانت پر رہا ہونے کے بعد عرض گذارش نے اس کے والدین کی طبی خدمت کی تھی جو ضعیف ہوچکے ہیں اور ان کی یاداشت بھی تقریبا ً ختم ہوچکی ہے اور دونوں فی الحال بیمار ہیں۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ ماضی میں ملی عبوری ضمانت کا عرض گذار نے غلط فائدہ نہیں اٹھایا تھا بلکہ وقت سے پہلے ہی جیل میں خود سپردگی کردی تھی لہذا عرض گذار کو ایک بار پھر حتمی بحث ہونے تک عبوری ضمانت پر رہا کیا جائے اور اس کی سزا کو منسوخ کیا جائے۔
عیاں رہے کہ جئے پور ہائی کورٹ سے ملی سزا کے خلاف داخل اپیل پر سپریم کورٹ حتمی بحث کی سماعت کرنے والی تھی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے عدالت نے حتمی بحث کی سماعت کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد حافظ عبدالمجید کی عبوری ضمانت عرضداشت داخل کی گئی ہے۔
اس مقدمہ میں ماخوذ ملزمین کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا کو 14/ سال اور جرمانہ کی رقم دس لاکھ کو دس ہزار میں تبدیل کردیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی گئی تھی جو زیر سماعت ہے۔
اس معاملے میں ملزمین اصغر علی محمد شفیع، بابو علی حسن علی، حافظ عبدالمجید کلو خان، قابل خان امام خان، شکر اللہ صوبے خان، محمد اقبال بشیر احمد کو جئے پور ہائی کورٹ نے 14/ سالوں کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمین نے راجستھان جمعیۃ علماء کے صدر مفتی حبیب اور جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے خازن مفتی یوسف کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے رابطہ قائم کیا تھا، ملزمین کی جانب سے قانونی امداد کی درخواست موصول ہونے کے  بعد مقدمہ کے دستاوزیزات کا مطالعہ اور ملزمین کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد نچلی عدالت کے فیصلہ کو پہلے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجو ع کیا گیا۔
واضح رہے کہ راجستھان اے ٹی ایس نے ملزمین کو یو ے پی اے کی دفعات 10,13,17,18,18A,18B, 20, 21 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 511 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق ممنوع تنظیم لشکر طیبہ سے ہے۔