جنرل نیوز

بار بار لاک ڈاؤن لگاناکرونا کا علاج ہے کیا؟ روتے رہیں -خواب میں خوشیاں تلاش کریں!

 

*تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور*
موبائل: 9279996221-

*بھاگو،بھاگو کوروناآیا،کورونا آیا*
لاک ڈاؤن lockdown سے دہشت مچی ہوئی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں غیر معمولی اقدامات کیے جارہے ہیں۔حکومتیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔بین الا قوامی سفری پابندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ممالک اندرون ملک سفر بھی روکنے کی کوشش کررہے ہیں اور لوگوں کا آپس میں میل جول بھی روک رہے ہیں۔ اس وقت عالمی وبا کورونا نے ساری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لیا ہوا ہے،کووڈ- 19 نے دنیا کے سارے نظام کو تباہ کردیا ہے۔ اس وبائی مرض کی روک تھام کے لیے عائد کردہ لاک ڈاؤن نے جانوروں سے لیکر انسانوں کی زندگی کو اجیرن وخطر ناک راہ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔خدشات، وسوسے، اندیشے، تذبذب،اُلجھنیں… یہ سب کورونا کے بچاؤ لاک ڈاؤن،لاک ڈاؤن کی دین ہے جو کچھ دنوں بعد ضرور ہم سے دور ہو جائیں گی”ان شاء اللہ تعالیٰ“
لیکن مظلوم وبے بس عوام پر بار بار لاک ڈاؤن لگا لگا کر بے حس حکمرانوں نے جو پریشانیاں لوڈ کردی ہیں شاید ہی اس درد،(ٹیس،تکلیف،کسک،پیڑا،نہ ختم ہونے والادرد) کی کراہ کبھی ختم ہو۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک اور وسائل سے بھر پور ملک میں عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے اور اس کے ساتھ بھونڈا مذاق ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا؟۔کہنے کو یہ جمہوری ملک ہے لیکن اب اس کے الگ الگ معنیٰ اور پیمانہ ہوگئے ہیں،عوام کا سب سے بڑا جمہوری حق ووٹvote دینے کی اجازت سب کو ملی ہوئی ہے۔ تو ہمیں یہ شعور بھی رکھنا ہوگا کہ یہی میری طاقت ہے،لیکن افسوس ہم اپنی ہی قوت اور ہتھیار کو کُند کیے ہوئے ہیں اور برباد کر رہے ہیں دوسروں کے بتانے سیکھانے پر اس کو بے کار کردے رہے ہیں،جن کو آزما چکے جو ناکارہ ثابت ہو چکے اُنھیں ہی ایک بار اور صحیح کرکے اپنے اُوپر ان ناکاروں کابوجھ لوڈ کررہے ہیں۔

*کورونا وائرس کی دوسری خطر نا ک لہر:*

یورپ سمیت دنیا کے متعدد ممالک کوکرونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے۔ جب کہ بھارت سمیت چند ممالک میں ابھی پہلی ہی لہر ہی پوری طرح قابو میں نہیں آرہی تھی کہ دوسری لہر کے آنے سے (جو ایک دن میں تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کوکرونا کے مریض بنا رہی ہے) لمحہ با لمحہ تعداد میں اضافہ ہی ہورہا ہے مضمون لکھے جانے تک گرافgraph نیچے آنا شروع نہیں ہواہے اللہ خیر فر مائے عافیت عطا فر مائے آمین۔ دوسری لہر نے پورے ملک میں ہا ہا کار مچا یا ہواہے متاثرین اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے نیوزچینلوں اور اخبارات وسوشل میڈیا میں جو تصویریں آرہی ہیں انتہائی خوفناک وتشویس ناک ہیں۔ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے جاری کو وڈ- 19 مرض سے نپٹنے کی تیاری کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مختلف اسٹیٹ کے سی ایم او کے ساتھ ایک میِٹنگ کی صدارت کی،اس میِٹنگ میں ادویات،آکسیجن،وینٹیلیٹروں اور ٹیکہ کاری سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلہ کیا ہے۔

*حکم بڑا یا سوال …؟:*

ہندوستان کے بڑے اخبار دینک بھاسکر 20 اپریل کو اپنی” سُرخی heading” لگائی ہے۔18+ dks 1 ebZ ls Vhdk اخبار لکھتا ہے”بڑاسوال: دیش میں جتنے ٹیکے لگ رہے، اتنی ہی اتپادن چھمتا، اگر 18+ کے لوگ امنڈآئے تو اِتنے ٹیکے کہاں سے آئیں گے؟ سیرم اِنسیٹی ٹیوٹ اور بھارت بایوٹیک ملکر ہر مہینے 8کروڑ ڈوز بنا رہی ہیں! اتنے ہی ٹیکے لگنے کا ماسک اوسط ہے! اب کیندر سے وتیئے مدد کے بعد سیرم اور بھارت بایو ٹیک ملکر ہر مہینے 12کروڑ ٹیکے بنانے لگیں گے! اس کے علاوہ رُوسی ویکسین اگلے مہینے آجائے گی، حا لانکہ اس کی سنکھیا ابھی اسپشٹ نہیں ہے اس کے علا وہ نجی اسپتالوں کو وِدیش سے بھی ویکسین منگوا نے کی چھوٹ دے دی گئی ہے“-

اسی اخبار نے 16 اپریل کو ہیڈنگ لگائی ہے۔”سرکا ر کے موتوں کے آنکڑے جھوٹے ہیں‘ یہ جلتی چتائیں سچ بول رہی ہیں،بہت بھیانک تصویر چھاپی ہے“
یہ سچائی ہے جو بڑے اخبارات بتا رہے، لکھ رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اُتسو تو جب منایا جاتا ہے جب انسان خوش ہو؟۔اسی لیے ناچیز نے سُرخی ہیڈنگ لگائی ہے

*”رُوتے رہیں خواب میں خوشیاں تلاش کریں!“۔*

کرونا ایک وبا ہے اس سے انکار نہیں،لیکن کیا صحیح معنوں میں سر کاروں نے اس سے نپٹنے،لڑنے کی تیاریاں کیں؟ یاصرف ڈائیلاگ ہی بولے جارہے ہیں 60 سالوں کو انجکشن پورے نہیں ہورہے ہیں 45 سال والوں کو انجکشن لگواکر اُتسو منانے کی ہدایت جاری ہوگئی، پورے ملک یہانتک بی جے پی سرکاروں ہریانہ،گجرات وغیرہ وغیرہ سے ویکسین vaccine کی مانگ ہو رہی ہے اور اب دوسری لہر کے قہر نے جو تباہی مچارکھی ہے اس سے سب ہی حواس باختہ ہیں اور ہمارے وزیر اعظم نے 18+ کو بھی COVID-19 vaccine کا ”ٹیکہ“ لگوانے کا حکم صادر فر مادیا،تو سوال کا اُٹھنا لازم ہے اس میں بھی جھمیلا ہے کی مرکزی سرکار کا الگ ریٹ اور ریاستی سرکاروں کا الگ ریٹ یہ کون سا پیمانہ ہے۔

*کبھی کسی نے سوچا تھا ایسا بھی دن آ ئے گا؟:* کورونا وائرس مرض نے اس وقت پوری دنیا اور ہندستان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، لوگ جیسے درندوں،جانوروں سے ڈرا کرتے تھے، آج آپس میں ایک دوسرے سے ڈر رہے ہیں،پہلے زندہ انسانوں کے لیے جگہ تنگ تھی اب مُر دوں کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے،مظلوم عوام ابھی پچھلے لوک ڈاؤن کی تکلیفوں اور کراہوں سے اُبھرے ہی نہیں تھے درد سے پریشان تھے(بھولنا تو دور کی بات، بھول تو زندگی بھر نہیں سکتے) کہ پھر دھڑا دھڑ لوک ڈاؤن کا حکم جاری ہوگیا۔ہم نے ٹی وی چینلوں اور اخبارات وسوشل میڈیا میں جو تصویریں دیکھیں،آپ نے بھی دیکھی ہوں گی یہ بھیانک تصویریں،کیا ہمارے حکمران سبق لیں گے؟،پنچایت کے پردھان،ایم ایل اے، ایم پی راجیہ سبھا کے ممبر حضرات کیا صحیح معنوں میں عوام کے ہمدرد ہیں جیسا کہ ہر پارٹی کا حکمراں اس کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو کیا ہمارے حکمراں اپنے اوپر بے تحاشہ خرچ کر کے جدید سہولتوں سے لیس گاڑیوں اور دوسری ضروتوں کو پورا کرتے ہیں۔ کیا جدید سہولتوں سے لیس اسپتال نہیں بنواسکتے؟ ابھی سکھ بھائیوں نے دہلی میں ڈائلائسس کرانے کا جدید اسپتال بنوایا ہے کیا کمال کا اسپتال ہے جب ایک چھوٹی کمینوٹی کے لوگ ایسا کرسکتے ہیں تو حکومتیں کیوں نہیں کرسکتی ہیں ضرورت ہے پارٹی کے نظریات سے اوپر اٹھ کر سوچنے اور کرنے کی۔

*کرونا سے نہیں اب لاک ڈاؤن سے ڈرلگتا ہے:*
کرونا جسے ہو اس نے کورونا کا زہر پیا درد سہا زندہ رہا تو قسمت کا دھنی ورنہ مرگیا یقینا افسوس ناک ہے! لیکن لاک ڈاؤن کا درد سہنے لائق ہی نہیں کیا کیا لکھاجائے جتنا لکھا جائے کم ہے۔ ہر شخص بوڑھا، جوان،بچہ، عورتیں، امیر،غریب سب گھروں میں دبکے پڑے ہیں، پاپی پیٹ کا سوال ہے کھائیں کہاں سے پیے کہاں سے سفر کیسے کریں مہاجر مزدور اپنے گھروں کو کیسے پہنچیں۔ پولیس اپنے رویے سے کیسے پیش آتی ہے بتانے کی ضرورت نہیں،دوچار ہی انسانیت دوست اور مددگار ہوتے ہیں،باقی ان کا ڈنڈا اور رشوت خوری دنیا جانتی ہے۔لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہے بڑے شہروں سے چلنے والی ٹرینوں میں زبردست بھیڑ دکھائی دے رہی ہے۔اتنے بڑے ملک میں کہاں سے کہاں لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے بچوں کی پر ورش کے لیے روزی کمانے جاتے ہیں ممبئی،دہلی، احمد باد، بنگلور،جے پور،کولکتہ وغیرہ اپنے شہروں میں واپسی کے لیے پریشان وبدحال ہیں۔بسوں دوسرے ذرائع کی سواریوں میں آدمی پر آد می سوار ہے،ایسے تو جانور بھی نہیں بھرے جاتے،کہاں سوشل ڈسٹینسنگ؟ کیسی دوگز کی دوری؟ کیسی احتیاط؟ اور کہاں ماسک؟ سب بدحواس کسی طرح اپنے گھر پہنچ جائیں یہ سب دیکھ کر کرونا سے نہیں لاک ڈاؤن سے ہر شخص ڈر رہا ہے۔گزشتہ سال عوام لاک ڈاؤن کی مار جھیل چکی ہے،غریب عوام،حاملہ عورتیں بھی پیدل سفر کر کے راستہ میں ہی بچہ بھی پیدا ہوا پیر لہو لہان ہوگئے اپنے گھروں کو پہنچیں،کتنے مر گئے حکومتیں آنکھیں بند کئے رہیں،ایک حاملہ عورت کاپیر خون سے لت پت دیکھ کر بی بی سی ہندی سروس کے سلمان راوی نے اپنے جوتے اُس حاملہ عورت کو پہنا دیے تھے جس کا ویڈیو وائرل ہواتھا پھر وہی نظا را وہی "تماشہ ” جی ہاں حکمرانوں کے لیے "تماشہ” ہے۔
؎ *تلووں سے ٹپکتا خون پھر پوچھے گا* ٭
*یہ سڑک اب تک بنی کیوں نہیں؟* (انیس خان)
سڑکیں بننا تو دور کی بات رہی مریضوں کو بچانے کے لیے آکسیجن تک پوری نہیں ہورہی ہے،افسوس صد افسوس مریضوں کو بھرتی کرنے کے لیے سی ایم او کے لیٹر کی اجازت توبہ توبہ۔مریضوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ تک جا پہنچی۔ تمام سیاسی پارٹیاں داؤں پیچ چھوڑ کر عوام کی جان بچانے میں میں لگ جائیں بیان بازی میٹینگوں سے کچھ نہیں ہونے کو پلیز پلیز سبھی پارٹیاں ہر ممکن مریضوں کی خدمت کریں،لاک ڈاؤن میں پھنسے لوگوں اور غریب عوام کے کھانے کا بھی صحیح انتظام کریں۔
؎ *ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے* ٭ *ہمارے منہ میں تمھاری زبان تھوڑی ہے* (راحت اندوری) اللہ جلد سے جلد اس موذی بیماری سے نجات عطا فر مائے آمین ثم آمین:-
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ 831020,
hhmhashim786@gmail.com،
رابطہ:09279996221

 

متعلقہ خبریں

Back to top button