عید کی اصل خوشی روزہ داروں کےلیےہے!

مولانا محمد عزرائیل مظاہری 
  مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال 
  وناظم معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا
عید سعید کی اصل فرحت وشادمانی تو ان حضرات کومیسرہوگی ،جنہوں نےخداوند عالم کے اس عطا کردہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں روزہ رکھاہوگا،اورتراویح  کی بیس رکعتیں نماز  پڑھی ہوگی۔
    بیس رکعات کی قید اس لیے لگارہاہوں کہ جوحضرات تراویح کی نماز  آٹھ رکعتیں  پڑھتے ہیں، وہ “تراویح”کی نماز نہیں؛ بل کہ نفل نماز  پڑھتےہیں۔
   نام بدل دینے سے کسی شی کی حقیقت نہیں بدلتی ہے،ان لوگوں  نے آٹھ رکعات نفل نماز کو”تراویح “کانام دےدیاہے، تراویح کی نماز تو درحقیقت بیس رکعات ہیں ،نہ کہ آٹھ رکعات ،جیساکہ ان لوگوں نےسمجھ رکھاہے۔
   تراویح کی بیس رکعات ہونے کی نقلی دلیلیں توبہت ساری ہیں ،اس لیےاس مختصر مضمون میں انہیں بیان نہیں کیاجائے گا،البتہ عقلی دلیل ،جسے متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بیان کیاہے،اسے ذکرکیےدیتاہوں۔
     عقلی دلیل:قیامت کےروز حساب سب سے پہلے فرائض کاہوگا،اور جب فرائض میں کمی ہوگی،تواسےنوافل کےذریعہ پوراکیاجائےگا،نوافل بھی ایسے ہوں ،جودیکھنے میں تونوافل ہوں ،مگر وہ فرائض کےدرجے میں ہوں،تب ہی جاکر “نوافل”کےذریعہ”فرائض”کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔
     دن بھر میں جوہم فرض نمازیں پڑھتے ہیں،ان کی تعداد بیس رکعات ہوتی ہیں ۔
    فجر کی دورکعات،ظہر کی چاررکعات،عصر کی چار رکعات،مغرب کی تین رکعات،عشاء کی چاررکعات،وترکی تین رکعات۔
  اب آپ کہیں گے :کہ وتر کی نماز فرض نہیں؛ بلکہ واجب ہے،تواس کاجواب یہ ہے فرض اور واجب میں عملاکوئی فرق نہیں ہے ،یعنی جس طرح فرض کااداکرناضروری ہوتاہے،اسی واجب کااداکرنابھی ضروری ہوتاہے،البتہ اعتقادافرق فرق ہے ،فرض کامنکر کافرہوتاہے،اور واجب کامنکر فاسق ہوتاہے،اور بیس رکعات جوہم نے کہاہے :وہ اعتقادا نہیں؛عملاکہاہے۔
   قیامت کےدن حساب سب سے پہلے فرائض کاہوگا اور جب فرائض میں کمی ہوگی،تواسےایسےنوافل کےذریعہ پوراکیاجائےگا،جوفرائض کےدرجےمیں ہو،اور وہ ہے رمضان المبارک میں اداکی جانےوالی بیس رکعات تراویح کی نماز۔
    اور جوحضرات آٹھ رکعات تراویح کی نمازپڑھتےہیں،وہ بھلابتائیں کہ کیابیس رکعات میں کمی کی تلافی آٹھ رکعات کےذریعہ کی جاسکتی ہے؟تو اس کاجواب آپ سوائے اس کے اور کیادیں گے کہ آٹھ رکعات کےذریعہ بیس رکعات کی تلافی ناممکن ہے ۔
     اور روزہ اپنے حاملین کے لئے اور قرآن اپنی تالیین کے لیے ،کل قیامت کے روز اپنے رب ذوالجلال اور رحمان و رحیم کے روبرو سفارشی ہوں گے، روزہ کہے گا:کہ اے عالمین کے خالق و مالک اس نے محض میری خاطر دن بھر بھوک پیاس کی شدت اور نفسانی خواہشات کو برداشت کیا ہے، بس میری لاج رکھتے ہوئے، ہر روزہ دار کی بخشش فرما ؛چناں چہ باری تعالٰی روزہ کی سفارش قبول فرمائیں گے، اور ہرروزہ دار کو گناہوں سے نجات و خلاصی اور جنت کا پروانہ عطا کر دیں گے، اسی طرح قرآن کریم بھی خالق الارض والسموات کے حضور سفارش کرے گا: کہ ائے شہنشاہوں کے شہنشاہ روزہ داروں نے محض میری خاطر دن بھر ،روزہ رکھنے کی وجہ سے تھکے ماندہ ہونے کے باوجود بھی، فقط تیری رضاوخوشنودی کی خاطر بلاناغہ رمضان المبارک کے ہرروز بعدنمازعشاء صلاۃ تراویح میں مجھے بصد شوق و احترام پڑھتے، سنتے اور اپنی محبوب وعزیز نیند کو قربان کرتے رہے ہیں؛ اس لیے ہر روزہ دار کو ان کے گناہوں سے دستبردار کر کے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے دیا جائے ،چناں چہ باری تعالی ہر صائم کے حق میں، اس کی بھی سفارش قبول فرما کر، انہیں ان کے گناہوں سے نجات اور جنت کی خوشخبری دیں گے ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:الصيام والقرآن يشفعان للعبديقول الصائم أي رب إني منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه ويقول القرآن منعته النوم فشفعني فيه فيشفعان.مشكوة شريف:۱۷۳/۱)ترجمہ: روزہ اور قرآن بندہ کے لیے(اللہ کےدربارمیں)سفارش کریں گے، روزہ کہے گاکہ ائےپروردگار!میں نے اس کو دن میں کھانے،پینے اور خواہشات سے روکے رکھا،لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما،اور قرآن کہے گا کہ ائے خالق کائنات! میں نے اسے رات کوسونےسے روکے رکھا، لہٰذااس کےبارے میں، میری سفارش قبول فرما؛چناں چہ ان دونوں کی سفارشیں قبول کی جائیں گی ۔
    خداوندعالم نے روزہ داروں کو روزہ کی حالت میں سرزد ہوئے لغویات فضولیات سےمجلی ومصفی کرنے کے لیے ،اور غرباء مساکین کو اپنی غریبی اور مسکینی پر شکوہ نہ کرنے اور اس خوشی میں صاحب ثروت حضرات کے مساوی شریک کرنے کے لیے، ہر اس شخص پر جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا،یا اس کے بقدرضروریات زندگی سے زائد روپےکا مالک ہو “صدقہ فطر “واجب قراردیا ہے، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے صدقۃ الفطر کو ضروری قرار دیا ہے، جو روزہ دار کے لئے لغو اور بےحیائی کی باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے، اور مسکینوں کے لئے کھانے کا انتظام وانصرام ہے، جو شخص اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کردے ،تو یہ مقبول زکوۃ ہوگی، اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے ،تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے(ابوداؤد شریف :۱۶۰۹)، عید کا دوگانہ ادا کرنے کے لیے عیدگاہ کا رخ کرنے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہے ،اور بہتر تو یہ ہے کہ “یوم العید ” سے چند روز قبل ہی” صدقۃ الفطر” غرباء و مساکین کے حوالے اور سپرد کردے؛ تاکہ وہ بھی عید کے لئے لباس اور کھانے پینے کامعقول انتظام کرسکے۔
     عید کے اس پرمسرت دن میں احکم الحاکمین بطورفخر فرشتوں سے عرض کرتے ہیں :کہ کیا بدلہ اور مزدوری ہے، میرے ان مطیع و فرمانبردار بندوں، بندیوں کا ،جنہوں نے میرےا حکام واوامر کو بجا لایا ہے ،فرشتے عرض گزار ہوتے ہیں، کہ ان کی پوری پوری مزدوری عطا کر دی جائے، تو رب العالمین فرماتے ہیں: کہ قسم ہے میری عزت وجلال، عظمت شان اور علو مرتبت کی ،کہ ضروربالضرور ، ان کی دعاؤں کوشرف قبولیت سے نوازوں گا ،اور پھر اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور فرماتے ہیں: کہ لوٹ جاؤ اپنے گھروں کو اس حال میں کہ، میں نے تمہیں بخش دیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ تمام مسلمان “نماز عید “کے بعد بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، یہ ہےروزہ کی شان عظیمی کہ باری تعالیٰ روزہ داروں سے خوش ہوکر، انہیں مغفرت اور جنت کی بشارت اور خوشخبری دے دیتے ہیں۔
     جن لوگوں نے اس بابرکت مہینے کویوں ہی ضائع کردیاہے،اللہ کےفرامین کونہیں بلایاہے،ان کےلیےیہ عید کادن، عیدکادن نہیں؛ بل کہ رونے کادن ہے۔
   اللہ تبارک وتعالی رمضان المبارک کی طرح غیر رمضان میں بھی پنج وقتہ نماز پڑھنے اور اللہ کے ہرہر حکم کوبجالانےکی تمام امت مسلمہ کوتوفیق عطا فرمائے آمین ۔