عادل آباد میں مدرسہ دارالقرآن کے جلسہ عام سے علماء کرام کے خطاب

قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے جگہ جگہ دینی مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت

عادل آباد/6 دسمبر (اردو لیکس) عادل آباد کے مدرسہ دارالقرآن کا چوتھا عظیم الشان جلسہ عام بعنوان دستار بندی حفاظ کرام اہمیت مکاتب و ہماری ذمہ داری کا بانی و ناظم مدرسہ دارالقرآن مولانا محمد مبین اشاعتی کی نگرانی و سرپرست مدرسہ مولانا محمد ایوب اشاعتی کی صدارت میں کامیاب انعقاد عمل میں لایا گیا۔مولانا عبدالعلیم خالد قاسمی نے بحسن وخوبی نظامت کے فرائض انجام دیے اور اپنی نظامت میں عمدہ اشعار کے ذریعہ سامعین کے دلوں کو جیت لیا۔جبکہ مدرسہ کے ذمہ داران صدر مدرسہ محمد ہاشم،محمد الطاف،حافظ شیخ شبیر،حافظ صدام نے انتظامات کو قطعیت دی،حافظ محمد معیز،حافظ عارف خان،مولانا عبدالرؤف اشاعتی،عبدالزاہد،مجاہد ہاشمی،عبدالرحیم،محمد ارشد نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

اس موقع پر چار خوش نصیب طلبہ جنہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مدرسہ ہٰذا میں تین سال کی قلیل مدت میں عصری علوم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے والے چار طلبہ توصیف احمد،عبدالعلیم،شیخ نوید احمد،شیخ ناہد کو مہمان خصوصی سلطان القلم حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی خلیفہ مجاز حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے ہاتھوں دستار بندی عمل میں لائی گئی۔

جلسہ سے مفتی جمال الدین قاسمی استاذ فقہ و حدیث دارالعلوم حیدرآباد کے علاوہ حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نے مخاطب کرتے ہوئے موجودہ حالات میں مکاتب کے قیام اور عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت پر قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی خطاب فرمایا۔مولانا سید ومیض ندوی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد بلال میں چند سال قبل مکتب کی شکل میں دینی تعلیم کا نظم مولانا محمد مبین اشاعتی کی نگرانی میں عمل میں لایا گیا تھا اب باضابطہ مدرسہ میں تبدیل کرتے ہوئے دارالقرآن نام رکھا گیا ہے جس سے سینکڑوں طلبہ اسکول و کالج میں عصری تعلیم کے ساتھ حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔یہ بات مدرسہ کے ذمہ داران،سرپرستوں اور شہریان عادل آباد کے لئے خوشی کی بات ہے۔ہم پہلے مسلمان ہیں بعد میں ڈاکٹر انجینئر وغیرہ اسی لیے ہم اپنے بچوں کو عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم کا نظم کریں اس کے لئے موجودہ دور میں جگہ جگہ دینی مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے مساجد کو صرف نمازوں کے لیے خاص کرنے کے بجائے مساجد کے اندر دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز پر قرآن کریم کو سیکھنے سکھانے کا عمل بھی شروع کرنا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے عقائد و ایمان کا تحفظ کیا جاسکے اور ہماری نجی زندگی کے مسائل کو علماء کرام کے ذریعہ سے حل کرنے میں سہولت و آسانی ہو۔انہوں نے مزید اپنے خطاب میں قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے اور اسے ترجمہ و معنی کے ساتھ پڑھنے پڑھانے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کے ذریعے ہی سیدھا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی نجات والا راستہ بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں کی حالت کو درست کرنا بھی ضروری ہے۔دل ہمارے جسم کا بادشاہ ہوتا ہے

دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔دل درست ہوتا ہے اللہ والوں کی صحت سے قیامت کے روز کون کامیاب ہوں گے جو صحیح سلامت والا دل لے کر حاضر ہوئے ہوں ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔اللہ تبارک و تعالی کو ایسا دل محبوب و پسندیدہ ہے جس دل میں تکبر حب مال نہ ہو اور وہ تمام برائیوں سے پاک ہو۔دل کی غذاء اللہ تعالی کا ذکر ہے۔دلوں کا اطمینان مال و دولت ساز و سامان میں نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی یاد میں ہے۔اسی لیے صبح و شام قرآن کریم کی تلاوت ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے۔مولانا نوجوانوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کا نوجوان بے راہ روی سے نکل کر دینی تقاضوں کو پورہ کرنے میں جدوجہد کرتا ہے تو ہمارے ملک ہندوستان میں انقلاب پیدا کیا جاسکتا ہے۔مہمان علماء کرام کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔ناظم مدرسہ مولانا محمد مبین نے افتتاحی کلمات میں مدرسہ کی کارکردگی سے واقفِ کروایا۔اس موقع پر مختلف اصحاب کی جانب سے طلبہ و اساتذہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور تحفہ تحائف سے نوازا گیا۔اس موقع پر شہر عادل آباد کے مختلف دینی مدارس و رفاہی فلاحی تنظیموں سے وابستہ علماء و حفاظ اور دانشوروں نے شرکت کرتے ہوئے مدرسہ کے ذمہ داران اور طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور خوب دعاؤں سے نوازا۔جلسہ کا آغاز مولانا محمد مبین کے فرزند اور شیخ ناہد کی نعت سے ہوا۔اور اختتام مہمان خصوصی مولانا سید احمد ومیض ندوی کی رقت انگیز دعاء پر ہوا۔