حضور نبی کریمﷺ کی محبت ہی اصلِ ایمان _ چنچل گوڑہ گراونڈ پر رحمت عالم کمیٹی کی انٹرنیشنل تحفظ ِ ناموس رسالت ؐکانفرنس

ناموس رسالت ؐکانفرنس سے علامہ مفتی سلمان ازہری (ممبئی) ، و علامہ محمد فرو غ القادری (انگلینڈ)، علامہ احمد رضا منظری (بریلی )علامہ سید عادل رضا (مدھیہ پردیش )کے خطابات

حیدرآباد۔21/نومبر 2021ء ( راست )یقینا یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکﷺ کے ذکر کو بلند فرمادیا ہے اور جس ذات ِ گرامی کی عظمت کو رب ِ تعالیٰ بلند فرمادے اسے کوئی حقیر اور کم ظرف گھٹانے کی ناپاک کوشش کیا کرسکتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کی حیات ِ طیبہ میں بھی کفار و مشرکین اور منافقین نے آپ ﷺ کے ناموس پر انگلی اٹھانے کی مذموم کوششیں کی تھیں ۔ لیکن قربان جائیے اُن پیارے صحابہ پر جن کی دل کی دھڑکنیں صرف اور صرف نبی پاک ﷺ کی محبت میں دھڑکتی تھیں وہ کبھی بھی ناموسِ رسالت ﷺپر ایک حرف برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ جب کبھی کفار و مشرکین ومنافقین میں سے کوئی گستاخی کا مرتکب ہوتا اسے کیفر کردار تک پہنچاکر واصل جہنم کردیتے ۔ میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ناموس کا مطلب کیا ہے ناموس کا مطلب ہے عزت ، اور نبی پاکﷺ کی عزت کے تحفظ سے بڑھ کر کائنات میں کوئی شئے کی اہمیت نہیں ۔

 

جن صحابہ کرام نے ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کیلئے دشمنان اسلام کی جانیں لیں نبی پاکﷺ نے اُن کیلئے خصوصی دُعائیں فرمائی ۔ نبی پاک ﷺ سے محبت اور حضور ﷺ کے ناموس کا تحفظ صحابہ کرام کے ایمان کا اصل تھا ۔ غارِ ثور میں جب نبی مکرم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرمارہے تھے ، ایک سانپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاوں کو مسلسل کاٹ رہا تھا لیکن صدیق اکبر ؓ نے اپنے پاوں کو جنبش بھی نہ دی اور سانپ کے کاٹنے کو برداشت کیا ، جب کہ قرآن میں جان بچانے کو فرض قرار دیا گیا لیکن ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی جان کی بھی پروا نہیں ، اپنی جان کو نبی پاک پر قربان کردیا ، جب حضور کی آنکھیں کھلیں توپوچھا ائے ابوبکر کس چیز نے پریشان کیا ہے تو صدیق ِ اکبر ؓ نے کہا کہ حضور سانپ نے کاٹ دیا ہے تو نبی پاکﷺ نے اپنے لعاب کو سانپے کے کانٹے پر لگایا آپ شفاء یاب ہوگئے دوسرا واقعہ جب نبی پاکﷺ ایک سفر میں حضرت علی ؓ کے زانوں پر سررکھ کر آرام فرمارہے تھے تب نمازِ عصر کا وقت ہوچکا تھا لیکن حضرت علی ؓ نے نماز کی پرواہ نہیں کی بلکہ یہی سونچا کہ حضور پاکﷺ کی نیند میں خلل نہ آئے جبکہ آپ جانتے تھے کہ نماز فرض ہے لیکن حضور کی نیند پر اپنی فرض نماز قربان کردی جب حضور بیدار ہوئے تو بتایا ائے علی ؓ کیا بات ہے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ حضور نمازِ عصر کا وقت ختم ہوگیا تو نبی پاکﷺ نے سورج کو اشارہ کیا اور سورج پلٹ آیا اور حضرت علی ؓ نے نمازِ عصر ادا کی ۔ غور کریں صحابہ کرام نے حضور کی نیند میں خلل کو برداشت نہیں کیا اور اپنی جان اور نماز کی پرواہ نہیں کی ، تو وہ ناموس رسالتﷺ پر ایک حرف بھی کیسے برداشت کرسکتے تھے ۔

 

ان خیالات کا اظہار کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے زیر اہتمام عظیم الشان انٹرنیشنل تحفظ ِ ناموس رسالت ﷺکانفرنس منعقدہ 20/ نومبر 2021ء بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ سے عالمی شہرت یافتہ اسلامک اسکالر ،مفکر اسلام حضرت علامہ مفتی سلمان ازہری (ممبئی) نے کیا ۔ کانفرنس کی قیادت مولانا سید محمد رفیع الدین حسینی رضوی قادری شرفی ( شرفی چمن ) ، سرپرستی مولانا سید خلیل اللہ شاہ بابا قادری قدرتی محبوبی ، صدارت مولانا سید محمد شاہ قادری ملتانی اور نگرانی عالیجناب محمد شوکت علی صوفی نے کی ۔ محمد شاہد اقبال قادری (صدر رحمت عالم کمیٹی) نے مہمان علماء کرام کا پرجوش استقبال کیا ۔مہمانان ِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا سید شاہ محمد حسینی پیر الحسینی الرضوی القادری (کرنول) ، مولانا محمد اخلاق اشرفی ، حکیم ایم اے ساجد قادری ملتانی ، عالیجناب الحا ج محمد نعیم صوفی ،مولانا ماجد قادری ، مولانا ممتاز اشرفی ، مولانا محمد رضا ، مولانا ظہیر الدین رضوی ، مولانا سید مستجب قادری ، جناب سید محمد اعزاز (مالک اعجاز پریس) نے شرکت کی ۔ کانفرنس کا آغاز حافظ و قاری کلیم الدین حسان کی قرأت سے ہوا ۔ بارگاہِ رسالتمآب ﷺ میں ملک محمد اسمٰعیل علی خاں اور دیگر نے ہدیہ نعت پیش کی ۔نظامت کے فرائض مولانا کفیل عنبر ( کلکتہ ) نے انجام دئیے ۔ مولانا نے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنی دنیا کی فکر میں ہیں اُنہیں چاہئے کہ دنیا کی تمام چیزیں بعد میں ہیں لیکن ناموس و عزت رسول ﷺ کی حفاظت سب سے اولین ایمانی فریضہ ہے ۔

 

ایک صحابی رسول حضرت خالد ؓ ، جن کے والد دشمن اسلام تھے اپنے بیٹے کے اسلام لانے پر اُنہیں سخت اذیتیں دیتے یہاں تک تین دنوں تک بھوکا پیاسا رکھا ،پتھروں سے مار کھلواتے یہاں تک کے بیٹے کی ناک پھوڑدی پھر حضرت خالد ؓ سے پوچھا کہ اب تو اسلام سے نکل جا لیکن حضرت خالد ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں تیرا بیٹا نہیں ہوں ۔ حضرت بلال حبشی ؓ کی زندگی بھی عشق رسول ﷺ کی اعلیٰ مثال ہیں جن پر کئی مظالم کئے گئے لیکن ناموس رسالتﷺ پر ایک حرف نہ برداشت کیا ۔ صحابہ کرام نے ناموس رسالتﷺ کیلئے ہمیشہ باطل سے ٹکرایا ، حضرت معاذ اورمعز۱۳ سال اور ۱۵ سال کے دو بچے میدانِ بدر میں آئے اور کافروں کے سردار ابوجہل کو قتل کیا ۔ میدانِ بدرمیں یہ دو بچوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے پوچھا کہ ابوجہل کہاں ہے اور جب حضرت عبدالرحمن ؓ نے انہیں بتایا کہ وہ دیکھو وہ گھوڑے پر جارہا ہے تو دو بچے ابوجہل پر ٹوٹ پڑے اور ایک نے گھوڑے کو کاٹا دوسرے نے ابوجہل کے گرتے ہی اُس کے سینے پر بیٹھ کر اُسے قتل کردیا ۔ ان دو بچوں کا جذبہ عشق رسول ﷺ کا عالم یہ تھا کہ وہ یہ جانتے تھے کہ ابوجہل نبی پاک ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی کرتا ہے جو ان دو بچوں کو برداشت نہ ہوئی ۔ آج وسیم رضوی نامی ملعون نے نبی پاکﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے ایک کتاب کو شائع کیا ، قرآن نے نبی پاکﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے کو ولد الزنا کہا ہے ( یعنی زنا سے پیدا ہونے والا) ۔ قرآن یہ گواہی دے رہا ہے تو سمجھ جانا چاہئے کہ حضور ﷺ کی عظمت پر انگلی اٹھانے والا اپنی حقیقت بتارہا ہے ۔ حضور نبی پاکﷺ کا ذکر روزِ ازل سے روز ابد تک باقی رہے گا ۔ کوئی بھی بد بخت اور ملعون چاہے کتنی ہی ناپاک کوششیں کرلے سرکار کی عظمت نہ کبھی گھٹی تھی نہ گھٹے گی ۔

 

مولانا نے مزید کہا کہ آج سرزمین حیدرآباد میں مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے اس عظیم الشان کانفرنس میں عاشقانَ رسول ﷺ کے اس اژدھام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی زندگیوں کو ناموس رسالتﷺ کے تحفظ پر قربان کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مفکر و مبلغ اسلام حضرت علامہ محمد فرو غ القادری (انگلینڈ)نے کہا کہ نبی پاکﷺ سے محبت کے بغیر جب ایمان ہی مکمل نہیں تو پھر دنیا میں کسی مسلمان کاعشق رسول ﷺ کے بغیر جینا کس طرح ممکن ہے جب نبی پاک ﷺ کی عزت و ناموس پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو نبی پاک ﷺ کے عاشق اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ایک انقلاب کی شکل میں گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے تھے ۔ آج مسلمانوں کو دلوں میں اس ایمانی انقلاب کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی جان مال وعزت کی پرواہ کئے بغیر ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ آج میں نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یاد رکھیں دنیا و آخرت کی بھلائی صرف نبی پاکﷺ سے محبت اور سنت کی پیروی میں مضمر ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ مفکر اسلام حضرت علامہ محمد احمد رضا منظری (بریلی شریف )نے کہا کہ نبی پاکﷺ سے عشق صحابہ کرام کی حیات تھی ان کا ایمان تھا وہ اپنی جانوں سے زیادہ حضور ﷺ محبت کرتے تھے ۔ جب کبھی ناموس پر کبھی انگلی اُٹھتی اُس انگلی کو کاٹنے میں دیر نہ کرتے ۔ نبی پاک ﷺ کا یہ فرمان کہ ’’ وہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اسکے ماں با پ ، اولاد ، مال و اسباب سے محبوب نہ ہوجاوں ‘‘ ۔ صحابہ کرام جانتے تھے کہ عظمت مصطفی پر جان لینا اور دینا ہی کامیابی و سرخروی ہے طبرانی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوعبیدہ ؓابن الجراح نبی پاکﷺ کے دربار میں حاضر ہوکر ایک سر کو ایک تھیلی میں لیکر آئے تو سرکار نے پوچھا کہ ائے ابو عبیدہ ؓ یہ کس کا سر ہے تو آپ ؓنے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کا گستاخ تھا ، دنیا اسے میرا باپ کہتی تھی لیکن میرے نزدیک یہ ناموس رسالتﷺ کا گستاخ تھا ۔ نبی پاکﷺ کی آنکھوں میں آنسو آئے اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی ائے رب میں ابو عبیدہ ؓ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہوجا ۔ مولانا نے مزید کہا کہ ایک لمبی فہرست ہے جس میں عاشقانِ رسول ﷺ نے اپنی جان ، مال ، عزت و آبرو کی پرواہ کئے بغیر گستاخانِ رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شمالی ہند کے نامور عالم دین ، شہزادہ غوث الاعظم حضرت العلامہ سید عادل رضا قادری ( مدھیہ پردیش ) نے کہا کہ ہمیں اپنی نسلوں کو دینی تعلیم اور عشق رسول ﷺ کا درس دینے کی ضرورت ہے

 

جس طرح سے یہ ملعون اور گستاخ عزت و ناموس رسول ﷺ پر انگلیاں اُٹھارہے ہیں اُن کو اسکا جواب دیا جاسکے ۔ بریلی کے امام اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں ؒنے اپنی زندگی کو تحفظ ناموس رسالت کیلئے وقف کردیا تھا ۔ آج یونہی اعلیٰ حضرت کے چرچے نہیں ہوتے بلکہ یہ چرچے اس لئے ہوتے ہیں کہ بریلی کے امام کی زندگی صرف اور صرف عشق رسولﷺ پر مبنی تھی ۔ آپ نے اپنی تمام حیات کا نچوڑ نبی پاکﷺ کی محبت کو قرار دیا ۔ حضرت العلامہ مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی (شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ )نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مسلمانوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ نبی پاک ﷺ کی عظمت و ناموس کی اہمیت کیا ہے اپنے دلوں میں جذبہ ایمانی کے ساتھ زندہ رکھنا صرف اور نبی پاکﷺ کی محبت میں ہی ممکن ہے اپنی نسلوں کو یہ درس دیں کہ نبی پاک ﷺ کی عظمت و حرمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں یہی چیز دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے ۔ کانفرنس سے حضرت العلامہ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز حسینی رضوی قادری شرفی صاحب (کامل الحدیث جامعہ نظامیہ)،حضرت العلامہ سید شاہ کلیم اللہ حسینی کاشف پاشاہ بندہ نوازی ، حضرت مولانا محمد اقبال احمد رضوی القادری نے بھی خطاب کیا ۔ کنوینرس محمد عادل اشرفی ،سید لئیق قادری ، محمد عبدالکریم رضوی ، محمد عبدالمنان عارف ، سید طاہر حسین قادری ، محمد عبید اللہ سعدی قادری شرفی نے انتظامات کئے ۔ آخر میں دعا اور صلوٰۃ و سلام پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا ۔