جنرل نیوز

کشمیری رہنماؤں کی نظر بندی، جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل۔ ایم کے فیضی

ے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کشمیری سیاسی رہنماؤں و سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی اور دیگر سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کوجموں کشمیر سے متعلق حد بندی کی سفارشات کے خلاف احتجاج کرنے سے روکنے کیلئے ہفتہ سے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے، اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ یہ عمل ہندوتوا فاشسٹوں کی بزدلی کا عکاس ہے اور یہ ملک میں جمہوریت کے تابوت پر ایک اور کیل ہے۔ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے جموں ڈویژن میں چھ اور کشمیر میں ایک نشست بڑھانے کی حد بندی کمیشن کی تجویز کے خلاف ہفتہ کو سری نگر میں پر امن مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ سابق ریاست کے دونوں صوبوں کی آبادی کے تناسب کے خلاف ہے۔ فاشسٹ مرکزی حکومت جب سے مرکز میں اقتدار سنبھالا ہے کشمیریوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کررہی ہے اور ان کے انسانی، بنیادی اور شہری حقوق کی خلاف ورزی اور انکار کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کو گھروں میں نظر بند کرکے مرکزی حکومت شہریوں کے اظہار رائے کی آزادی کے جمہوری اور آئینی حق کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی کررہی ہے۔ کشمیری سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ فاشسٹ عوام سے خوفزدہ ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ جب حکومت عوام سے خوفزدہ ہے تو ایسے میں عوام متحد ہوکر ملک میں فسطائیت کے خلاف مزاحمت کرنے اور اسے شکست دینے کیلئے آگے آئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button