متفرق خبریں

اسلام میں معیار تکریم کیا ہے؟

محمد ابوبکر عابدی قاسمی ندوی
اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر اٹھارہ ہزار سے زائد مخلوق کو پیدا کیا، ان سب میں انسانوں کو دوسری تمام مخلوق پر فضیلت و برتری عظمت و رفعت اور شرافت و عزت بخشی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں بیان فرمایا ہے ” ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ” ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں!.
( سوره اسراء، آيت 70 )
  اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو قوموں اور نسلوں میں باہم تعارف کے لئے تقسیم کیا ہے نہ کہ آپس میں فخر کرنے کے لئے؛ لیکن معاشرہ میں لوگ قوموں، ملکوں، خاندانوں اور مال وزر کو معیار تکریم بنا کر فخر کرتے ہیں جو کہ سراسر اسلامی نقطہء نظر سے غلط ہے ۔
اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے ” يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوباً وقبائل لتعارفوا، إن أكرمكم عند الله أتقكم، إن الله عليم خبير ” اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تم کو مختلف قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کیا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار و متقی ہے اللہ خوب جاننے والا اور ہرچیز سے باخبر ہے(  الحجرات،آیت 13) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ کوئی انسان ایک دوسرے کو کم تر یا رزیل نہ سمجھے اور اپنے حسب و نسب، خاندان، یا مال و دولت وغیرہ کی بنا پر فخر نہ کرے؛ کیوں کہ یہ چیزیں تفاخر کی نہیں ہیں، پھر تفاخر سے باہمی منافرت اور عداوت کی بنیادیں پڑتی ہیں، اس لیے بیان فرمایا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں اور خاندانوں اور قبائل یا مال و دولت کے اعتبار سے جو فرق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ تفاخر کے لیے نہیں بل کہ تعارف کے لئے ہے ۔
نسبی اور وطنی یا لسانی امتیاز میں حکمت و مصلحت :
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تقسیم مختلف قوموں قبیلوں میں فرمائی ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا تعارف اور شناخت آسان ہوجائے، مثلاً ایک نام کے دو شخص ہیں تو خاندان کے تعارف سے ان میں امتیاز ہوسکتا ہے؛ نیز اس سے دور اور قریب کے رشتہ کا علم ہوسکتا ہے (معارف القرآن جلد ہشتم)
ایک حدیث میں حضورِ اکرم پیغمبرِ مکرم صلی الله عليه وسلم نے بیان فرمایا : ” يا أيها الناس إن ربكم واحد وإن أباكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا لأحمر على أسود، ولا لأسود على أحمر إلا بالتقوى، إن أكرمكم عند الله أتقٰكم، ألا هل بلغت؟ قالوا : بلى يا رسول الله، قال : فليبلغ الشاهدُ الغائبَ ” اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ (سیدنا آدم علیہ السلام) ایک ہے، غور سے سنو! عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے، فضیلت تو صرف اور صرف متقیوں کے لئے ہے، پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے تم لوگوں تک اپنی بات پہنچادی؟ تو صحابہ ء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا کیوں نہیں یارسول اللہ آپ نے ہم تک باتیں پہنچادی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اب حاضر شخص غائب کو میری یہ بات پہچادے ” ( رواه احمد)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دنیا کے لوگوں کے نزدیک عزت مال و دولت کا نام ہے اور اللہ کے نزدیک تقویٰ کا ۔ (معارف القرآن جلد ہشتم، ص:125)
لہٰذا قرآن وحدیث اور اثر کی روشنی میں یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہوگئی کہ اللہ کے یہاں شرف، فضیلت اور مقبولیت تمام تر ذاتی پرہیزگاری ہے نہ کہ فخر نسلی و قومی و آبائی، نہ کسی شیخ، سید، اور خان ہونے میں کوئی عزت ہے، اور نہ ہی کسی کے انصاری اور سبزی فروش ہونے میں ذلت ہے، اسلام نے انسانی آبادی کی تقسیم کو صرف دو ہی طبقے میں رکھا ہے نمبر ایک متقی نمبر دو غیر متقی، اس کے علاوہ اللہ کے یہاں حقیقی تقسیم نہ امیر و غریب کی ہے نہ نسلی شریف و رزیل کی نہ گورے اور کالے کی، اور نہ ہی کالے اور گورے کی، بل کہ صرف اور صرف متقی اور غیر متقی کی ہے ۔
موبائل نمبر : 8271507626

متعلقہ خبریں

Back to top button