علاقائی زبانوں میں قرآن کے تراجم وقت کی اہم ضرورت مانو کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں بزمِ تحقیق کے تحت لیکچر

حیدرآباد، یکم ستمبر (پریس نوٹ) علاقائی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ترجمہ قرآن کا کام بہت دشوار اور ہمت طلب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جو غلطیاں مستشرقین نے کی ہیں وہ ہم سے سرزد نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار پر وفیسر محمد اسحاق ، پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی اور پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو نے کل بزم تحقیق، شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لیکچر کے بعد اپنے خطاب میں کیا۔
مجتبیٰ فاروق (پی ایچ ڈی اسکالر ،شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو) نے آن لائن لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ گیارہویں اور بارہویں صدی میںیوروپ میں قرآن کریم کے ترجمے کا کام سب سے پہلے لاطینی زبان میں ہوا ۔لاطینی زبان اس وقت یورپ میں غالب زبان کی حیثیت رکھتی تھی اور اس کے علاوہ اس کو مذہبی درجہ بھی حاصل تھا۔ پھر سولہویں صدی میں انگریز ی زبان میں ترجمہ قرآن کا آغاز ہوا اور سارے ترجمے اس وقت مستشرقین کررہے تھے۔ ان ترجموں میں اہم ترجمہ جارج سیل کا ہے جو انہوں نے 1734ء میں کیا۔ اس ترجمہ کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کا ترجمہ براہ راست عربی زبان سے کیا۔ اس ترجمے سے اہل یورپ اور مغربی دنیا بڑی تعداد میں قرآن مجید سے متعارف ہوئی۔ مجتبیٰ فاروق نے لیکچر ”انگریزی تراجم قرآن -ایک سروے“ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ تراجم قرآن کے سلسلے میں مستشرقین نے کوئی ٹھوس اور معروف منہج اختیار نہیں کیا ،بلکہ غیر علمی اور غیر منطقی طرز استدلال اختیار کیا۔ ہر جگہ تعصب اور جانب داری سے کام لیا گیا۔
پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی  نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ قریب پانچ چھ صدیوںتک انگریزی اور لاطینی زبانوں میں غیروں نے قرآن کے ترجمے کئے اور مسلمان اس سے دور رہے۔ آج بھی ضرورت ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں وہاں کی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کئے جائیں تاکہ لوگوں تک قرآن کا پیغام پہونچ سکے۔ جناب عامر مجیبی (پی ایچ ڈی اسکالر) نے پروفیسر محمد اسحاق کا تعارف پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت امانت علی قاسمی (پی ایچ ڈی اسکالر ) نے انجام دی، اور صباانجم (پی ایچ ڈی اسکالر )کے کلمات تشکر پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ پروگرام کا آغاز محمد صلاح الدین (پی ایچ ڈی اسکالر) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔