روہنگیا مسلمانوں سے متعلق مسائل پر راجیہ سبھا میں حکومت کا جواب

 دہلی، _ غیر قانونی تارکین وطن (روہنگیا سمیت) قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ روہنگیا تارکین وطن کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق رپورٹیں موجود ہیں۔

بھارت نے 14 اکتوبر 1997 کو اذیت اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی اور شرمناک برتاؤ یا سزا کے خلاف کنونشن پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، بھارت نے کنونشن کی توثیق نہیں کی ہے۔ بھارت نے 10 اپریل 1979 کو شہری اور سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) اور بین الاقوامی کنونشن کو تسلیم کیا تھا۔

بھارت نے یو این سی اے ٹی کی توثیق نہیں کی ہے اور اس طرح روہنگیا مسلمانوں کی بحالی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئی سی سی پی آر کی دفعہ 13 کی شرط اور اس کی رضامندی کے وقت بھارت کے ذریعہ کیے گئے اعلامیہ کے مطابق، ایک قانونی اجنبی کو بھی قابل اطلاق قوانین کے مطابق نکالا جا سکتا ہے۔

شہریت کی شناخت کے بعد غیرقانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھنا اور ملک بدر کرنا ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لئے فارنرس ایکٹ1946  کی دفعہ 3 کے تحت  اور طاقت کے زور پر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی کو نکالنے کے لئے دی پاسپورٹ (بھارت میں داخلہ) ایکٹ 1920 کی دفعہ 5 کے تحت مرکز کو حاصل اختیارات تمام ریاستی حکومتوں کو بھی آئین ہند کے آرٹیکل 258(1) کے تحت فراہم کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، آئین ہند کے آرٹیکل 239(1) کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے منتظمین کو بھی مذکورہ بالا اختیارات سے متعلق مرکزی حکومت کے کام کاج انجام دینے کے لئے ہدایت کی گئی ہے۔

یہ اطلاع داخلی امور کے وزیر مملکت جناب نتیہ نند رائے نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب کے تحت فراہم کی۔