اختتام رمضان سے قبل اسکی قدر کریں، ناموس رسالت کی حفاظت، مسجد اقصٰی اور فلسطینی مسلمانوں کیلئے امت کو کھڑا ہونا ہوگا!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اجلاس عام سے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا سجاد نعمانی، مفتی شعیب اللہ خان، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مفتی یوسف تاؤلی اور مولانا سلمان بجنوری کا خطاب!

بنگلور، 12 اپریل (پریس ریلیز) : مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں جاری مختلف پروگرامات مثلاً سلسلہ “فضائل رمضان”، سلسلہ “مسائل رمضان”، سلسلہ “تفسیر قرآن”، سلسلہ “پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم نامور غیر مسلم محققین و مفکرین کی نظر میں!” کے اختتام پر ایک عظیم الشان آن لائن اجلاس عام مرکز کے سرپرست اعلیٰ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی سرپرستی اور مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی کی صدارت میں منعقد ہوئی- جس میں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، مفتی یوسف تاؤلی اور مولانا سلمان بجنوری بطور مہمانان و مقررین خصوصی شریک ہوئے- جبکہ اجلاس کی نگرانی مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان اور نظامت مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی نے فرمائی-
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ اور مجلس احرار اسلام ہند کے صدر حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے فرمایا کہ رمضان المبارک اپنے آخری مرحلے میں جاری ہے- رمضان المبارک اور روزہ کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے- ہمیں رمضان المبارک کے بقیہ ایام میں رجوع الی اللہ اور عبادت و ریاضت کے ذریعے تقویٰ حاصل کرتے ہوئے اپنی مغفرت کروالینا چاہیے- مولانا نے فرمایا کہ کرونا وائرس کی لہر سے پوری دنیا پھر ایک بار بڑی پریشانی کا سامنا کررہی ہے- ہمیں چاہیے کہ اس موقع پر ہم غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی خوب مدد کریں بالخصوص کرونا کے مریضوں کی خدمت کیلئے مالی تعاون کریں- قائد الاحرار نے فرمایا کہ آج پوری دنیا بالخصوص اس ملک میں فرقہ پرست طاقتوں قرآن مجید پر تنقید اور حضرت محمد رسول اللہ صلعم کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں انکو سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان اسے قطعاً برداشت نہیں کرسکتا، ہم خون کے آخری خطرے تک ناموس رسالت کی حفاظت کرتے رہیں گے-

اس موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اسکو قرآن کی روشنی میں جاننا بہت ضروری ہے- قرآن و حدیث میں مسجد اقصٰی میں جو کچھ ہورہا ہے اور جو آگے ہوگا وہ پہلے ہی بتایا جاچکا ہے- اس وقت شدید ضرورت ہے کہ امت کو بہادری، شجاعت اور ہمت کا پیغام دیا جائے، اسلئے کہ اس وقت بالخصوص مسلمانانِ ہند ڈر و خوف میں مبتلا ہیں- انہوں نے فرمایا کہ نبی صلعم نے ارشاد فرمادیا کہ مشرکین اور یہود آخری زمانے میں اہل اسلام پر بدترین ظلم کریں گے اور درمیان میں کئی امتحانات سے گزرنے کے بعد ایک وقت وہ آئیگا کہ یہود اور مشرکین کے تکبر کا نشہ اتارا جائے گا- اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں کرنا ہے بلکہ اللہ کا دستور ہے کہ گزشتہ انبیاء کے دشمنوں کو اللہ نے آسمان سے عذاب بھیج کر تباہ و برباد کیا لیکن اس امت مسلمہ کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ امت کے جیالوں کے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔ مولانا سجاد نعمانی نے فرمایا کہ امت مسلمہ اور انسانیت اب فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مولانا نعمانی نے  بیت المقدس کے حالیہ دردناک واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہمت، جرأت، شجاعت، غیرت اور شوق شہادت جسے کہتے ہیں وہ ساری چیزیں فلسطینی مسلمانوں کے اندر نظر آتی ہیں- انہوں نے فرمایا کہ نمازیوں کی صفیں لگی ہوئی ہیں گولیاں اور بم برس رہے ہیں ایک نمازی بھی نیت توڑ کر بھاگ نہیں رہا ہے، مرنے کے ارادے سے اور جام شہادت پینے کے شوق میں آئے ہیں، انکی عورتوں لڑکیوں اور بچوں میں وہ ہمت ہے کہ ہم جیسے بڑے بڑے بزرگ سمجھے جانے والے لوگوں کے اندر اسکا عشرے عشیر بھی نہیں ہے۔ مولانا نعمانی نے ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دنیا کے کسی کونے میں بھی رہو مسجد اقصٰی سے وابستہ اور جڑے رہو- مولانا نے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گروہ میری امت میں ہوگا، جو ہر قیمت پر ظلم کے مقابلے میں جما رہے گا، وہ ہر طرح کی قربانیاں دے گا لیکن کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور اللہ کی مدد انکے ساتھ ہوگی- اسکی علامت یہ ہوگی کہ وہ گروہ کہیں اور نہیں بلکہ بیت المقدس میں اور اسکے اطراف میں ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے تو اس بات پر ایک فیصد شبہ کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گروہ یہی فلسطینی مسلمانوں کا ہے جو کسی بھی قیمت پر مسجد اقصٰی کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں- مولانا سجاد صاحب نے انکے ایمان کی مضبوطی کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے بارے میں کہتا ہوں کہ مجھے صاف لگتا ہے انکے ایمان کے مقابلہ میں ہم صرف منافق ہیں، ہم ہر چیز میں شکست تسلیم کرنے کو تیار ہیں، ہم سے تم جو مشرکانہ نعرہ لگوانا چاہو لگوالو، ہمارے بچوں کو اسکولوں میں جو کفرو شرک پڑھانا چاہو پڑھا لو، ہم تو سب کچھ گوارا کیے ہوئے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ رمضان کے مبارک مہینہ میں جہاں ہمیں بہت سارے گناہوں سے توبہ کرنا ہے وہیں اجتماعی طور پر بزدلی کے گناہ سے بھی توبہ کرنا ہوگا- مولانا نے فرمایا جس قرآن نے ہمیں نماز کا حکم دیا روزے کا حکم دیا تقویٰ کا حکم دیا اسی قرآن نے ہمیں بہادری و شجاعت اور مقابلے، ہمت و استقامت اور حوصلہ کا بھی حکم دیا ہے۔ لہٰذا بزدلی سے توبہ کریں اور مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لیے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی صاحب نے فرمایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں اس لیے عطاء کیا گیا تاکہ ہم اپنے اندر تقویٰ و طہارت، مجاہدانہ کردار، صبر و تحمل، اللہ سے تعلق اور اللہ کی معارفت پیدا کرسکیں- تقویٰ کے معنیٰ لحاظ کے ہیں کہ ہمیں اللہ و رسول کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے- مولانا نے فرمایا کہ اسی تقویٰ کے حصول کیلئے رمضان المبارک کا مہینہ بطور ٹریننگ ہمیں عطاء کیا گیا تھا-  اب اختتام رمضان پر یہ ٹریننگ ختم ہوتی ہے اور اصل میدان عمل میں ہم داخل ہوتے ہیں- جس طرح ہم سب رمضان المبارک میں احکامات الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور محرمات سے بچتے رہتے ہیں اور ہم نے رمضان میں جو کچھ سیکھا ہے اس پر پوری زندگی عمل کرنا ہوگا- گویا کہ اب ہماری ٹریننگ مکمل ہوکر امتحان شروع ہوگا-

اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہیکہ رمضان المبارک کی سعادتیں ہمیں حاصل ہوئیں- رمضان المبارک عبادت کے ساتھ ساتھ تربیت کا مہینہ ہے- ہم نے رمضان سے یہ ترتیب حاصل کی ہیکہ ہم آئندہ کی زندگی تقویٰ و طہارت، اخلاص و للہیت، پاکدامنی اور اللہ و رسول کی مکمل فرمانبرداری کے ساتھ گزاریں گے- اختتام رمضان میں بس کچھ لمحات باقی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان بقیہ ایام میں نیکیوں سے اپنی جھولیاں بھرلیں، دعا و مناجات سے اپنے رب کو منالیں اور توبہ و استغفار سے اپنے آپ کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے آزاد کرلیں- نیز کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے امسال عید الفطر سادگی سے منائیں اور ضرورتمندوں کا تعاون کریں!

اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مفتی یوسف تاؤلی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو دوسرے مہینہ کے مقابلے میں زیادہ فضیلت عطاء فرمائی ہے- اور اس ماہ صیام میں فرض کا ثواب ستر گنا اور نوافل کا ثواب فرض کے برابر عطا کرتا ہے- یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے- اس میں لیلۃ القدر کی ایسی رات آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے- اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ آج رمضان آخری مرحلے میں ہے، رمضان میں جس طرح ہم احکام الٰہی کے پابند تھے اور گناہوں سے بچتے تھے اسی طرح اب ہمیں پورا سال گزارنا ہے- انہوں نے فرمایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات سے لوگ خوفزدہ ہیں لیکن ہمیں اس سے قطعاً ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ موت برحق ہے اور موت پہلے سے ہی متعین ہے لہٰذا ہمیں اپنے رب اور اپنے گناہوں سے ڈرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیماری اور شفاء اسی کے ہاتھ میں ہے-

قابل ذکر ہیکہ اجلاس کا آغاز حافظ حیات خان کی تلاوت اور حافظ محمد عمران کے نعتیہ اشعار سے ہوا- جبکہ اسٹیج پر مولانا محمد ریاض مظاہری اور مولانا نور الدین فاروقی بطور خاص موجود تھے- اپنے خطاب میں تمام علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا سجاد نعمانی صاحب کی دعا سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا!