ملک کی سیاسی ،سماجی و اقتصادی صورت حال اور کورونا سے پیدا شدہ تباہی پر مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند کا اظہار تشویش

نئی دہلی _ ہمارے ملک میں غربت و بے روزگاری، مذہبی منافرت ، مطلق العنانیت ، عدم شفافیت اور لاقانونیت میں اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر اترپردیش کی صورت حال نہایت ہی تشویشناک ہے جہاں سیاسی مخالفین اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا گلا گھونٹنے کی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔”

یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے قومی نائب امیر پروفیسر محمد سلیم انجیئنر نے آج منعقدہ آن لائن پریس کانفرنس میں جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰکے احساسات اور منظور شدہ قرار دادوں کے تناظر میں کہی جس میں ملک کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ مرکزی حکومت سرکاری مشینری کو یہاں تک کہ سی بی آئی ، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ جیسے ادارے کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرکے ان کی خود مختاری اور سالمیت پر کاری ضرب لگا رہی ہے۔ اجلاس میں ملکی ذرائع ابلاغ کے بڑے حصے کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔کانفرنس میں مجلس شوریٰ کی اس تشویش پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ، مہنگائی عروج پر ہے اور بے روزگاری بڑھی ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سبب معیشت کی جو کمر ٹوٹی تھی اسے عالمی وبا کے دوران بد انتظامیوںنے پوری طرح تباہی سے دوچار کردیا۔ملک کی سماجی صورت کمزور اور پسماندہ طبقات ، اقلیتیں اور خواتین پر زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔لکشدیپ میں عوام سےان کے ثقافتی حقوق چھینے جارہے ہیں اور ان کی اراضی کو سرمایہ داروں کے مفادات کی خاطر سرکاری تحویل میں لیا جارہا ہے۔ پروفیسر سلیم نے مجلس شوریٰ کی قرار دادوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مشرقی یروشلم اور غزہ پٹی پر تازہ اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر دنیا کو مسئلہ فلسطین اور اس کے مستقل اور منصفانہ حل کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مصروف نہتھے فلسطینی مردو خواتین کو اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ جارحیت کا نشانہ بنانا، فلسطینی بستیوں کو جبراًخالی کرانا اور احتجاج کرنے والوںکو زود کوبی کا نشانہ بنانا اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم کی غمازی کرتا ہے ۔ اسرائیل کے ان جارحانہ عزائم کے سبب ہیومن رائٹس کونسل اسرائیلی جنگی جرائم کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔

مجلس شوریٰ میں کوویڈ کی دوسری لہر کے سبب ٹوٹنے والی عظیم مصیبت اور اس سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ملک میں کووڈ سے ہونےوالی تباہی اور اس سلسلے میں مجلس شوریٰ کی تشویشات پر روشنی ڈالتے ہوئے جماعت کے نیشنلسکریٹری ملک معتصم خاں نے جماعت کی جانب سے کووڈ کے دوران رفاہی کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔جماعت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ کووڈ سے وفات پانے والی بیواوں کو وظیفے جاری کرے، بچوں کو اسکالرشپ دے اور ان کی تعلیم کا مفت انتظام کرے ۔نیز اگر متاثرہ گھر میں کوئی ملازمت کے قابل ہے تو کم از کم ایک فرد کو ملازمت دے۔ کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں نے متعدد سوالات کیے جن کے جوابات پروفیسر سلیم انجینئر اور ملک معتصم خاں نے دیئے۔