صدرجمہوریہ ہند نے کشمیر کی یونیورسٹی کی تقسیم اسناد کی 19ویں سالانہ تقریب میں شرکت کی

نئی دہلی _ صدرجمہوریہ ہند ، جناب رام ناتھ کووند نے کشمیر کی نوجوان نسل سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی مالامال وراثت سے سیکھیں ۔ جناب رام ناتھ کووند نے کہاکہ انھیں یہ جاننے کا پورا حق ہے  کہ کشمیر باقی ہندوستان کے لئے ہمیشہ  امیدکی ایک کرن رہاہے ۔ اس کے  روحانی اورثقافتی اثر  نے پورے ہندوستان پراپنی چھاپ چھوڑی ہے ۔ وہ آج (27جولائی ، 2021) کو سری نگر میں یونیورسٹی آف کشمیر کی تقسیم اسناد کی 19ویں سالانہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ کشمیرایک ایسا مقام ہے جس کی خوبصورتی بیان سے باہرہے ۔ بہت سے شعراء نے اس کی خوبصورتی کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اوراسے کرہ ارض کی جنت قراردیاہے لیکن یہ قطعاًبیان سے باہرہے ۔ اسے فطرت کی نعمت کہاجائے کہ  یہ  مقام  تصورات  و نظریات کا ایک مرکز بھی بن گیاہے ۔ یہ وادی برف سے ڈھکے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے ، جس نے لاکھوں سال قبل صوفی سنتوں کے لئے  ایک  بہترین مسکن فراہم کیاہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ کشمیرکی خدمات کا حوالہ دیئے بغیرہندوستانی فلسفے کی تاریخ تحریرکی جائے ۔رگ وید کا ایک سب سے پرانا تحریری نسخہ کشمیر میں لکھاگیاتھا۔ مختلف  فلسفوں کو پھلنے پھولنے کے لئے یہ سب سے سازگارخطہ ہے ۔ یہ وہی مقاہے جہاں عظیم فلاسفر ابھینوگپتانے تصوف اورخدا کی معرفت کی راہوں کے حوالے سے  اپنے  تجربات تحریرکئے تھے ۔ کشمیرمیں ہی اسی طرح ہندوازم ، بدھ ازم پھلاپھولا جس طربعد کی سنچریوں میں اسلام اور سکھ ازم یہاں پہنچنے کے بعد پھلے پھولے  ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/GR5_4327ZKKE.JPG

صدر محترم نے فرمایا کہ کشمیر مختلف ثقافتوں کا سنگم ہے۔ عہد وسطی  میں، یہ لال دیو کی شخصیت  تھی جنہوں نے بہت سی مذہبی روایات کو  یک جہ کرنے کا راستہ دکھایا۔ لالیشوری کی  تحریروں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کا  نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ چیزیں  یہاں کی عام زندگی  ، عوامی  فن اور  تہواروں ،  ان کے کھانے پینے  اور ان کے لباسوں سے  ظاہر ہیں۔ اس مقام کی  اصل فطرت  شمولیت والی ہے۔ وہ تمام مذاہب ،جو یہاں وارد ہوئے ، وہ کشمیریت کے رنگ میں رنگ  گئے اور انہوں نے  کسی بھی قسم کے تعصب کو رد کیا اور  عوام کے درمیان  برداشت  اور ایک دوسرے کو  قبول کرنے کے جذبی کی ہمت افزائی کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/RA5_6467W0EZ.JPG

جناب صدر  نے کہا کہ  یہ  بڑی افسوسناک بات ہے کہ  مخصوص  بر امن بقائے باہمی کی  روایت کو پارہ پارہ کردیا گیا ہے اور کشمیریت کی جگہ  تشدد نے لے لی ہے۔ تشدد کی  کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ ایک وائر کی طرح ہے جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی  چاہئے۔ آج  اس سرزمین کے گم گشتہ ماضی کی  بازیابی کی  کوششیں کی جارہی ہیں۔

 صدر محترم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جمہوریت  میں تمام اختلافات کو ختم کرنے  اور بہترین شہری  پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کشمیر اس کو پہلے ہی سمجھ چکا ہے۔ جمہوریت نے کشمیریوں کی   اپنا مستقبل خود بنانے اور ایک پرامن اور خوشحال  مستقبل کی تعمیر میں  رہنمائی کی ہے۔ اس حوالے سے  نوجوانوں، خاص  طور پر خواتین کی بڑی  ذمہ داریاں ہیں  اور انہیں یقین ہے کہ وہ  اپنی زندگیوں اور کشمیر کی  تعمیر نو  کے اس موقع کو  گنوائیں گے نہیں۔

اس بات کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے  کہ کشمیر یونیورسٹی میں اس جلسہ  تقسیم اسناد میں  ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں 70  فیصد  خواتین ہیں اور طلائی تمغے حاصل کرنے والوں میں بھی اتنی ہی خواتین ہیں،  صدر محترم نے کہا  کہ اس صرف اطمینان کی بات نہیں بلکہ فخر کی بات ہے کہ  ہماری  لڑکیاں، لڑکوں کے برابر  بلکہ کہیں کہیں ان سے بھی آگے بڑھ کر  کار کردگی پیش کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس جذبے کی  تمام خواتین میں  بیداری  ضروری  ہے تاکہ  ایک نیا ہندوستان تعمیر کیا جاسکے ، ایک ایسا ہندوستان جو کومیٹی آف نیشنز میں صف اول میں ہو۔ اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے  انسانی وسائل  اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر  سیڑھی کی حیثیت رکھتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ  ملک کی تعمیر میں تعلیم  بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے اور ہندوستان نے ہمیشہ تعلیم کو اولین ترجیح دینے  کا فخر حاصل کیا ہے۔ ہماری تعلیم کے سلسلے کی عظیم روایت  رہی ہے، جن  میں سے کچھ کا پرچم  کشمیر نے بھی بلند کیا ہے۔ جدید تعلیم کو  ہمارے گراں مایا ورثے کے   ساتھ اس انداز میں  جوڑنے کی ایک ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے ، کہ جس  کے ذریعے 21  ویں صدی کے پیش کردہ   چیلنجوں کا بہتر طور پر سامنا کیا جاسکے اور اسی تصور کے تحت نئی قومی پالیسی کا  گزشتہ برس  اعلان کیا گیا  تھا۔

جناب صدر نے کہا کہ  نئی  تعلیمی پالیسی  کے کچھ پہلوؤں پر کشمیر یونیورسٹی میں  پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے، اس پالیسی کے  بروقت نفاذ  کے لئے  ایک روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے علاوہ ،  اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے  مختلف  تعلیمی کورسوں کا نئے سرے سے جائزہ لیا گیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر بولتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ  اس صدی میں بنی نوع انسان کے سامنے  سب سے  سخت  چیلنج ماحولیاتی تبدیلی کا ہے۔ عالمی درجہ حرارت  ہر جگہ اپنا  اثر دکھا رہا ہے، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ہمالیائی علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر دیکھا جا ر ہا ہے۔ انہیں یہ جان کر خوشی    محسوس ہور ہی ہے کہ کشمیر یونیورسٹی نے  دو مراکز  قائم کئے ہیں جن میں سے ایک گلیشیئروں سے متعلق ہے، اور دوسرا  ہمالیائی علاقوں کے حاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی اور  تحفظ سے متعلق ہے۔ یہاں نیشنل ہمالین آئیس-کور لیبا ریٹری بھی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عمدہ کارکردگی کے  یہ دونوں مراکز  اور  یہ  لیباریٹری  کشمیر کے  لئے معاون ثابت ہوں گے اور  دنیا بھر کی  ماحولیاتی تبدیلی سے مقابلہ  کرنے اور فطرت کی دیکھ بھال کرنے میں رہنمائی کریں گے۔