نیشنل

آزادی کے 75 سال بعد بھی "غداری "کے قانون کے استعمال کی کیا ضرورت؟ سپریم کورٹ

نئی دہلی _ سپریم کورٹ میں ہندوستانی تعزیرات ہند کی دفعہ 124-A کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت ہوئی ، جس میں غداری کے مقدمات درج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس کئے  عدالت نے غداری کو باہر کا  قانون قرار دیا  اور مرکزی حکومت سے پوچھا کہ کیا یہ قانون آزادی کے 75 سال بعد بھی ضروری ہے؟  سپریم کورٹ نے، اس قانون کی برقراری پر جواب دینے کے لئے مرکز کو نوٹس جاری کی ہے ۔

ریٹائرڈ آرمی آفیسر میجر جنرل (ریٹائرڈ) این جی وومبٹکیر نے  دفعہ 124-اے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک درخواست دائر کی تھی چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ نے آج وومبٹکیر کے ذریعہ دائر درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس این.وی. رمنا نے اہم ریمارکس کئے ۔غداری ایکٹ برطانیہ سے منتقل ہونے والا ایک امیگریشن قانون ہے۔ یہ قانون انگریزوں نے آزادی پسند افراد کے خلاف لایا تھا۔ گورے اسے ہندوستانیوں پر ظلم کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ وہ گاندھی اور تلک جیسے لوگوں کو اس قانون سے دبانا چاہتے تھے۔ ہمیں آزادی مل کر آج 75 سال ہوچکے ہیں۔ کیا اب بھی غداری کے قانون کی ضرورت ہے؟ ”

‘‘ غداری کے تحت کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں؟ اس میں کتنے کھڑے ہیں؟ سیکشن کی زیادتی کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ بہت ساری مثالیں ہیں جہاں اس قانون کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ لوگ اس قانون سے گھبرا رہے ہیں۔ جوا کھیلنے والوں کے خلاف بھی غداری کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ اس قانون کو ڈرانے اور ضمانت ملنے سے روکنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر مرکز کو مشورہ دیا کہ وہ غداری ایکٹ کے سیکشن 124-A کو ختم کرنے پر غور کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button