سپریم کورٹ کی ای۔ کمیٹی نے عدالت کی کارروائیوں کی لائیو اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ کے لئے مسودہ ماڈل رولز جاری کئے

نئی دہلی _ ( پی آئی  بی) سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔ کمیٹی نے  عدالت کی کارروائیوں کی  لائیو اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ کے لئے  مسودہ ماڈل  رولز  جاری کئے اور تمام  متعلقین سے  ان کے بارے میں مادخل، فیڈ بیک اور تجاویز طلب کی ہیں۔ مسودہ ماڈل رولز  ای۔ کمیٹی کی ویب سائٹ   پر دستیاب ہیں(عدالتی کارروائیوں کی لائیو  اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ  کے مسودہ ماڈل رولز  ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے لنک پر کلک کریں https://ecommitteesci.gov.in/document/draft-model-rules-for-live-streaming-and-recording-ofcourt-proceedings/)۔  سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔ کمیٹی  حکومت ہند کے انصاف کے محکمے کے ساتھ ہندوستانی عدلیہ میں  اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹکنالوجی  (آئی سی ٹی) کے نفاذ کے لئے  قومی پالیسی اور ایکشن پلان کے تحت کام کررہی ہے۔

عدالتی کارروائیوں کی لائیو  اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ  کے مسودہ ماڈل رولز کے بارے میں تجاویز اور مادخل  30 جون 2021 کو یا اس سے قبل ایک میل آئی ڈی ecommittee@aij.gov.in بھیجے جاسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج  اور ای۔ کمیٹی کے چیئر پرسن ڈاکٹر جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ  نے ہائی کورٹ کے تمام چیف جسٹسوں کو خط لکھ کر  ان سے  عدالتی کارروائیوں کی لائیو  اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ  کے مسودہ ماڈل رولز   کے بارے میں مادخل اور تجاویز   بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ آئین کی دفعہ 21 کے تحت  انصاف تک رسائی کے حق کی گارنٹی دی گئی ہے،  اس  کے  دائرے میں لائیو عدالتی کارروائیوں تک رسائی کا حق بھی آتا ہے۔ زیادہ شفافیت، شمولیت لانے اور  انصاف تک رسائی  کو فروغ دینے کے لئے  ای۔ کمیٹی نے  ترجیحی بنیاد پر  عدالتی کارروائیوں کی لائیو اسٹریمنگ کے پروجیکٹ پر کام شروع کیا ۔ اس سے  شہریوں، صحافیوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور  قانون کے طلبا  کے پبلک انٹریسٹ کے معاملوں سمیت  لائیو عدالتی کارروائی تک ریئل ٹائم بنیاد پر  رسائی  ہوسکے گی جو کہ  جغرافیائی  لاجسٹیکل اور بنیادی ڈھانچے کی وجوہات کے باعث دوسرے طریقے سے ممکن نہ تھی۔

ماڈل لائیو اسٹریمنگ رولز تیار کرنے کے لئے  بامبے، دلی، مدراس اور کرناٹک ہائی کورٹ  کے ججوں پر مشتمل ایک سب کمیٹی  کی تشکیل کی گئی۔اس سب کمیٹی نے  وسیع پیمانے پر  فیصلے کئے ۔  اس میں   سوپنل ترپاٹھی بنام سپریم کورٹ آف انڈیا  (2018) 10 ایس سی سی 639 میں  سپریم کور ٹ کے   فیصلے  میں ظاہر کئے گئے اصولوں،  مقدمے کے فریقین اور گواہوں  کی پرائیویسی اور رازداری سے متعلق  تشویشات، کاروباری راز دار سے متعلق معاملات ،  مرکزی یا ریاستی قانون کے ذریعہ  مقررہ  کارروائیوں یا  ٹرائلز تک  رسائی کے امتناع یا پابندی  اور  چند معاملات میں  مقدمے کی حساسیت کے پیش نظر  وسیع تر عوامی مفاد کے تحفظ پر بھی غور کیا گیا۔ یہ ماڈل رولز عدالتی کارروائیوں کی لائیو  اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ  کے لئے  متوازن ریگولیٹری  فریم ورک فراہم کراتے ہیں۔