خواجہ یونس کا قاتل سچن وازے ملازمت سے برطرف

خواجہ یونس کا قاتل سچن وازے ملازمت سے برطرف

گلزار اعظمی نے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے عدالتی لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا

 

ممبئی 12 مئی_ بدنام زمانہ پولس افسر سچن وازے کو ملازمت سے برطرف کئیے جانے کا جمعتہ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر سرکار کو سچن وازے کو ملازمت پر بحال کرنا ہی نہیں چاہئے تھا کیونکہ اس پر خواجہ یونس کے قتل کا سنگین الزام ہے اگر پولس کمشنر جمعیة علماء مہاشٹر کے توسط سے آسیہ بیگم کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل کردہ پٹیشن کے وقت اسے ملازمت سے برطرف کردیتے تو آج انہیں اور سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کو رسوائی اور قانونی کاروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ اب موجودہ پولس کمشنر کو بھی ان تینوں پولس والوں کو برطرف کردینا چاہیئے جنہوں نے خواجہ یونس کے قتل میں سچن وازے کا ساتھ دیا تھا ۔
گلزار اعظمی نےمزید کہا کہ سابق پولس کمشنر کے خلاف توہین عدالت کا جو مقدمہ ممبئی ہائی کورٹ میں کیا ہوا ہے اس سلسلے میں عدالتی کاروائی جاری رکھیں گے کیونکہ بامبے پولس سزا اوراپیل رول 1956کے تحت ممبئی پولس کمشنر کو پولس والوں کی معطلی ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے اس کے باؤجود انہوں نے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سچن وازے ودیگر تین پولس والوں کی تقرری کی تھی جس پر پولیس کمشنر کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ قائم کیا گیا ۔
واضح رہے کہ ممبئی گھاٹکوپر بم دھماکہ معاملے میں ماخوذ کیئے گئے پربھنی کے ملزم خواجہ یونس (سافٹ وئیر انجینئر)کی پولس حراست میں ہوئی موت کے ذمہ دار پولس والوں کو سی آئی ڈی کی تحقیقات کے بعد ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا لیکن 6 / جون2020 کو ان پولس والوں کو ملازمت پر بحال کردیاگیاجس کے خلاف خواجہ یونس کی والدہ کی جانب سے جمعیۃ علماء کے توسط سے ممبئی پولس کمشنر پرم ویر سنگھ اور ہوم ڈپارٹمنٹ کو توہین عدالت کانوٹس بھیجا گیا تھا نوٹس کا جواب پولس کمشنر کی جانب سے موصول نہ ہونے پر ممبئی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن اور سول رٹ پٹیشن داخل کی گئی تھی جو زیر سماعت ہے۔سابق اے پی آئی سچن وازے، کانسٹبل راجندر تیواری، راجا رام نکم اور سنیل دیسائی کی ملازمت پر بحالی کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
عیاں رہے کہ23 دسمبر 2002 کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد ان پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو زیر سماعت ہے ۔