مغربی بنگال میں 42 مسلم ارکان منتخب_ سابق پولیس کمشنر ہمایوں کبیر بھی شامل

کولکتہ _ مغربی بنگال اسمبلی میں اس مرتبہ مسلم نمایندگی گذشتہ کے مقابلے میں کم ہوگئی ہے اتوار کے روز ووٹوں کی گنتی کے بعد الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ، نومنتخب 292 اسمبلی حلقوں م میں کل 42 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں سال 2016  کے انتخابات میں 56 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس سے پہلے کے انتخابات میں یعنی 2011 میں 59 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے ہر انتخابات میں مسلم نمایندگی کم ہوتی جا رہی ہے پانچ سال کے اندر مغربی بنگال اسمبلی میں 14 مسلم ارکان کی نمایندگی کم ہوگئی ۔

اس مرتبہ مغربی بنگال اسمبلی میں منتخب ہونے والے 42 مسلم ارکان میں 41 ارکان اسمبلی کا تعلق ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پارٹی سے ہے اس مرتبہ نوشاد صدیق کو کامیابی حاصل ہوئی جنہوں نے راشٹریہ سیکولر مجلس پارٹی (آر ایس ایم پی) کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتا بنرجی نے اس مرتبہ 42 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا جن میں  41 نے کامیابی حاصل کی

جیتنے والوں میں کولکاتہ کے قریب چندن نگر پولیس کمشنر ہمایوں کبیر بھی ہیں جو الیکشن سے کچھ ماہ قبل پولیس کی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں شامل ہوئے تھے ۔

جنوری 2021 میں روڈ شو کے دوران”گولی مارو  سالوں کو ” کے نعرے لگانے والے تین بی جے پی کارکنوں کی گرفتاری کا اس وقت کے پولیس کمشنر ہمایوں کبیر نے ہی حکم دیا تھا بی جے پی کی جانب سے ایک بھی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔بی جے پی نے کل 77 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے ، ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔

مغربی بنگال میں 294 اسمبلی حلقے ہیں لیکن دو حلقوں میں امیدوار کی موت پر انتخابات نہیں  ہوسکے 292 نشستوں پر 8 مراحل میں انتخابات ہوئے تھے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ، ٹی ایم سی نے 213 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی نے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ بائیں بازو اتحاد 1 ، دیگر 1 سیٹ جیت گئے