شہریت ترمیمی قانون ( CAA) میں ترمیم کرنے سے متعلق حکومت کا بڑا بیان

نئی دہلی _ مرکزی حکومت نے چہارشنبہ کے روز راجیہ سبھا کو بتایا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) میں دوبارہ ترمیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ مرکز نے کہا کہ دوسری اقلیتوں کو اس قانون کے دائرے میں لانے کے لیے کوئی اور ترمیم لانے کی تجویز نہیں ہے۔  انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن راجیہ سبھا عبدالوہاب کے  سوال کا حکومت نے ٹحریری جواب دیا ۔

 

راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نیتیانند رائے نے کہا کہ جو لوگ اہل ہیں وہ شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جب مرکزی حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط تیار کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی  ماتحت قانون سازی کمیٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سی اے اے کے  قوانین بنانے کی آخری تاریخ 9 جنوری 2022 تک بڑھا دیں۔

 

سی اے اے کو 12 دسمبر 2019 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ قانون 10 جنوری 2020 کو نافذ ہوا۔ ہندو ، سکھ ، جین ، بدھ ، فریسی اور عیسائی جنہیں پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی تشدد ، ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ اس ایکٹ کے تحت بھارتی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ جو پناہ گزیں 31 دسمبر 2014 تک ان ممالک سے ہندوستان پہنچ چکے ہوں گے۔اس قانون کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔