نیشنل

وقف جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا جواب

نئی دہلی،9 اگست _  وقف قانون 1995 کی دفعہ 32 کی گنجائش کے مطابق  ملک میں  وقف جائیدادوں کی عام نگرانی  کرنے کا اختیار ریاستی نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وقف بورڈوں (ایس ڈبلیو بیز) کے پاس ہے۔ وزارت دو اسکیمیں نافذ کر رہی ہے، جن کے نام ہیں (i) قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم (کیو ڈبلیو بی ٹی ایس) اور (ii)شہری وقف سمپتی وکاس یوجنا (ایس ڈبلیو ایس وی وائی) جنھیں مرکزی وقف کی کونسل (سی ڈبلیو سی) کے ذریعے نافذ کیا  گیا ہے۔ کیو ڈبلیو بی ٹی ایس کے تحت  مالی امداد  سی ڈبلیو سی کو جاری کی جاتی ہے۔ جو کہ اسے ایس ڈبلیوبیز کو افرادی قوت کے فروغ کے لیے فراہم کرتی ہے۔ جس میں اسسٹنٹ پروگرامر، سروے اسسٹنٹ اکاؤنٹینٹ اور لیگل اسسٹنٹ وقف املاک کے ریکارڈس کی کمپیوٹرائزیشن اینڈ ڈیجیٹائزیشن، وقف جائیدادوں کی جی آئی ایس میپنگ، ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کا قیام،سینٹرلائزیشن کمپیوٹنگ فیسلیٹی (سی سی ایف) کی دیکھ ریکھ، کمپنیوں کے وسائل کی منصوبہ بندی (ای آر پی) اور ایس ڈبلیو بیز کی بہتر انتظامیہ کے لیے حل شامل ہیں۔ مالی برس (2014-15 سے 2020-21) کے دوران  سی ڈبلیو سی کے ذریعے اس اسکیم کے تحت ریاستی وقف بورڈوں کو 55.86 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ ڈبلیو اے ایم ایس آئی ( ہندوستان کے وقف اثاثوں کا نظام) کے نام سے معروف  آن لائن پورٹل پر دستیاب معلومات کے مطابق 749552 (سات لاکھ اننچاس ہزار پانچسو باون) کی غیر منقولہ وقف جائیدادوں کے ریکارڈ ابھی تک ڈبلیو اے ایم ایس آئی رجسٹریشن ماڈیول میں داخل کئے جاچکے ہیں جبکہ 188476(ایک لاکھ اٹھاسی ہزار چار سو چھہتر) وقف جائیدادوں کی جی آئی ایس میپنگ کی جاچکی ہے۔پہلی مرتبہ 331872 (تین لاکھ اکتیس ہزار آٹھ سو بہتر) وقت جائیدادوں کے ریکارڈوں کو ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ وقف اداروں نیز وقف بورڈوں کو معاشی طور پر بدحال پروجیکٹوں کو فراہم کرنے کے لیے ایس ڈبلیو ایس وی وائی کے تحت بلاسود قرضہ فراہم کیا جاتا ہے جو کہ  تجارتی مراکز، شادیوں کے ہال، اسپتالوں، کولڈ اسٹوریج وغیرہ جیسی وقف کی شہری جائیدادوں پر قائم ہیں۔ اسکیم کے تحت سی ڈبلیو سی میں ملک میں وقف اداروں کو 62.93 کروڑ روپئے کا قرض دیا ہے اور ان سولہ ریاستوں میں 155 پروجیکٹوں پر عملدرآمد کیا ہے۔ مزید برآں، اس جاری فنڈ میں سے سی ڈبلیو سی 12 ریاستوں میں 101 کی تعداد میں پروجیکٹوں کے لیے ایڈوانس قرضہ دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ وزارت اقلیتی مرکوز 1300 شناخت شدہ علاقوں میں پردھان جن وکاس کاریہ کرم (پی ایم جے وی کے) نافذ کر رہی ہے جس کے تحت معاشرتی نیز بنیادی ڈھانچہ اور  زندگی کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔

وقف بورڈوں کا قیام، وقف قانون 1995 کی 13 اور 14 دفعات کی گنجائش کے تحت ریاستی سرکاروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بورڈ ایک ایسا کارپوریٹ ا دارہ ہے جو یکے بعد دیگرے جاری رہتا ہے۔ وقف قانون 1995 کے مطابق  لفظ ’’وقف‘‘ کا مطلب نیک مقصد کے لیے کسی طرح کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کا کسی شخص کے ذریعے مکمل طور پر مخصوص کردینا۔ وقف املاک کا انتظام متولیوں، مینیجنگ کمیٹیوں اور ریاستی وقف بورڈوں کی عام نگرانی کے تحت دیگر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر یہ کام قانون 1995 کی 32ویں دفعہ کے مطابق ہے، جیسا کی ترمیم کیا گیا۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں  اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی  نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button