نیشنل

اصلاح معاشرہ کمیٹی اور ویمنس ونگ کی جانب سے نوجوانوں کے لیے خصوصی آن لائن اجلاس کا کامیاب انعقاد

نوجوان طلباء و طالبات کےلئے اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ویمنس ونگ کی جانب سے خصوصی آن لائن اجلاس بعنوان نوجوانوں کی خاندانی اور سماجی ذمہ داریاں بتاریخ 29 اگست 2021 روز اتوار رات 9 بجے یوٹیوب پر منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزار جنرل سکریٹری بورڈ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کی بڑی اہمیت ہے، دادیہال، نانیہال اور سسرال ان تینوں خاندانوں کا ذکر قرآن اور حدیث میں ہے۔ خاندان بڑی نعمت ہے، خاندان سے نہ صرف حفاظت ہوتی ہے بلکہ مجبوروں کی مدد، یتیموں کی کفالت اور باہمی تعاون ہوتا ہے۔ سماج اور خاندان میں نوجوانوں کی اہمیت ہے، نوجوانوں کی صلاحیت ملت کا اثاثہ ہے، رسول اللہ ؐ کی دعوت پر ایمان لانے والے تمام نوجوان تھے سوائےکچھ صحابہ کرامؓ کے۔ حضرت علیؓ بہت عمر کے تھے، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی عمر تیرہ سال کی تھی جب حضور صلی اللہ علیہ کی وفات ہوئی، لیکن انکی قابلیت یہ تھی کہ حدیث میںفقہ میں اور تفسیر میں ان کا اعلی مقام ہے۔ نوجوانوں نے اسلام کی دعوت و اشاعت اور دور دور تک دینی تعلیمات کو عام کرنے میں عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ جیسے ہمارے ملک کے عظیم فاتح محمد بن قاسم کی عمر صرف سولہ سال تھی، جب انہوں نے سندھ کو فتح کیا، انہوں نے اپنے اخلاق کے ذریعہ لوگوں کےدل بھی فتح کرلئے تھے۔ نکاح انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے، نکاح آسان بھی ہو اور بروقت بھی ہو، نکاح میں تاخیر سماج میں گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ذہنی سکون کے لئے بھی نکاح ضروری ہے۔ مولانا نے مہر کی ادائیگی اور بیٹیوں سے حسن سلوک اور معروف طریقہ سے پیش آنے کی تاکید کی۔ آپ نے کہا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک بہت ضروری ہے۔ ماں باپ کے حقوق سے غفلت سماج میں عام بات ہوگئی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو حق وراثت سے محروم نہ کریں اگر ترکہ صحیح طور پرتقسیم نہیں ہوا ہو تو اپنے والد اور اپنے دادا کا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کیجئے، بہنوں اور پھوپھیوں کو حق دیجئے۔
ڈاکٹر بشیر خاں صاحب دھولیہ مہاراشٹر نے پاکیزہ زندگی کی اہمیت پر مخاطب کیا اور کہا کہ گناہوں سے پرہیز کی فکر لڑکے اور لڑکیوں دونوں کےلئے ضروری ہے۔ دور جدید میں عورتوں کو مردوں کے ہاتھوں کھلونا بنایا جارہا ہے، ناجائز تعلقات عام ہوتے جارہے ہیں، پاکیزگی اور پاکدامنی کی تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم پاکدامن رہیں گے تو اللہ ہماری بہنوں کو بھی پاکدامن رکھے گا۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے کہا کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ سترہ سال کے تھے، تبھی پہلے سفیر بنے، حضرت معاذبن جبلؓجو بدر میں کفر کے سردار ابوجہل کا خاتمہ کیا۔

حضرت زیدبن ثابتؓ جبکی عمر صرف تیرہ سال کی تھی جب کاتب وحی ہوئے۔ حضرت طلحہؓ نے سولہ سال کی عمر احد کی جنگ میں شرکت کی۔ حضرت اسامہ بن زید سترہ سال کی عمر میں رومیوںکو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں نوجوانوں نے عظیم کارنامے انجام دیے، اسلامی تہذیب اور اصول آداب کا مقابلہ دنیا کی جدید ترقی یافتہ ممالک نہیں کرسکتے۔ یہ دور اسلاموفوبیا کا ہے لیکن نوجوانوںکو چاہئے کہ وہ اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرہ کی بہترین اصول پر تعمیر و تشکیل دیں۔ ہر میدان میں آگے بڑھیں۔ جناب ناظم الدین فاروقی صاحب نے نوجوانوں کو خاندان اور رشتہ ازدواج کے اصول اور آداب بتلائے، گھر اور خاندان کی تنظیم، اخلاق ، آداب زندگی، اصول، اخراجات اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ گھر میں اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش ہو، قرآن و حدیث کی تعلیم اور علماء کے خطابات خواتین کو بھی سنایا جائے۔ بیوی کی دینی تعلیم اور دین سے جوڑے رکھنا بزرگوں کی خدمت اور رشتہ داروں کے حقوق میں ضروری ہے۔ تنازعات کو آپس میں میاں بیوی حل کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ جناب اسرار علی اسحاق صاحب نے نوجوان کے اوقات اور اخلاق پر مخاطب کرتے ہوئے وقت کا صحیح استعمال نیز قابلیت اور صلاحیت کو مثبت کاموں میں لگانے پر زور دیا۔ علم کے ساتھ عمل بہت ضروری ہے، مرد کو قوام بنایا گیا مگر حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ مرد محافظ ہے نہ صرف بیوی کی بلکہ اپنی ماں، بہن بیٹی کا بھی۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری بورڈ نے اختتامی کلمات پیش کئے۔ انہوں نے اصلاح معاشرہ کمیٹی اور سوشل میڈیا ڈیسک کی کارکردگی سے واقف کروایا۔ شعبہ خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ (ویمنس ونگ) کی جانب سے دو روزہ بنت المسلم ورکشاپ 28 اور 29 اگست 2021 ہفتہ اتوار منعقد ہوا جس کے اختتام پر یہ یوتھ سیشن منعقد ہوا۔

محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ نے کہا کہ اولاد کی دینی تعلیم اور بیٹیوں کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکے لئے آن لائن، آف لائن اجلاس کے ساتھ ساتھ حلقہ خیر قائم کرنےاور کاؤنسلنگ سینٹرس کی ضرورت ہے۔ شعبہ خواتین کی تمام خواتین ریاستی اور ضلعی سطح پر ان کاموں کے لئے کوشاں ہیں
اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزار جنرل سکریٹری بورڈ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کی بڑی اہمیت ہے، دادیہال، نانیہال اور سسرال ان تینوں خاندانوں کا ذکر قرآن اور حدیث میں ہے۔ خاندان بڑی نعمت ہے، خاندان سے نہ صرف حفاظت ہوتی ہے بلکہ مجبوروں کی مدد، یتیموں کی کفالت اور باہمی تعاون ہوتا ہے۔ سماج اور خاندان میں نوجوانوں کی اہمیت ہے، نوجوانوں کی صلاحیت ملت کا اثاثہ ہے، رسول اللہ ؐ کی دعوت پر ایمان لانے والے تمام نوجوان تھے سوائےکچھ صحابہ کرامؓ کے۔ حضرت علیؓ بہت عمر کے تھے، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی عمر تیرہ سال کی تھی جب حضور صلی اللہ علیہ کی وفات ہوئی، لیکن انکی قابلیت یہ تھی کہ حدیث میںفقہ میں اور تفسیر میں ان کا اعلی مقام ہے۔ نوجوانوں نے اسلام کی دعوت و اشاعت اور دور دور تک دینی تعلیمات کو عام کرنے میں عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ جیسے ہمارے ملک کے عظیم فاتح محمد بن قاسم کی عمر صرف سولہ سال تھی، جب انہوں نے سندھ کو فتح کیا، انہوں نے اپنے اخلاق کے ذریعہ لوگوں کےدل بھی فتح کرلئے تھے۔ نکاح انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے، نکاح آسان بھی ہو اور بروقت بھی ہو، نکاح میں تاخیر سماج میں گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ذہنی سکون کے لئے بھی نکاح ضروری ہے۔ مولانا نے مہر کی ادائیگی اور بیٹیوں سے حسن سلوک اور معروف طریقہ سے پیش آنے کی تاکید کی۔ آپ نے کہا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک بہت ضروری ہے۔ ماں باپ کے حقوق سے غفلت سماج میں عام بات ہوگئی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو حق وراثت سے محروم نہ کریں اگر ترکہ صحیح طور پرتقسیم نہیں ہوا ہو تو اپنے والد اور اپنے دادا کا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کیجئے، بہنوں اور پھوپھیوں کو حق دیجئے۔
ڈاکٹر بشیر خاں صاحب دھولیہ مہاراشٹر نے پاکیزہ زندگی کی اہمیت پر مخاطب کیا اور کہا کہ گناہوں سے پرہیز کی فکر لڑکے اور لڑکیوں دونوں کےلئے ضروری ہے۔ دور جدید میں عورتوں کو مردوں کے ہاتھوں کھلونا بنایا جارہا ہے، ناجائز تعلقات عام ہوتے جارہے ہیں، پاکیزگی اور پاکدامنی کی تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم پاکدامن رہیں گے تو اللہ ہماری بہنوں کو بھی پاکدامن رکھے گا۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے کہا کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ سترہ سال کے تھے، تبھی پہلے سفیر بنے، حضرت معاذبن جبلؓجو بدر میں کفر کے سردار ابوجہل کا خاتمہ کیا۔ حضرت زیدبن ثابتؓ جبکی عمر صرف تیرہ سال کی تھی جب کاتب وحی ہوئے۔ حضرت طلحہؓ نے سولہ سال کی عمر احد کی جنگ میں شرکت کی۔ حضرت اسامہ بن زید سترہ سال کی عمر میں رومیوںکو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں نوجوانوں نے عظیم کارنامے انجام دیے، اسلامی تہذیب اور اصول آداب کا مقابلہ دنیا کی جدید ترقی یافتہ ممالک نہیں کرسکتے۔ یہ دور اسلاموفوبیا کا ہے لیکن نوجوانوںکو چاہئے کہ وہ اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرہ کی بہترین اصول پر تعمیر و تشکیل دیں۔ ہر میدان میں آگے بڑھیں۔ جناب ناظم الدین فاروقی صاحب نے نوجوانوں کو خاندان اور رشتہ ازدواج کے اصول اور آداب بتلائے، گھر اور خاندان کی تنظیم، اخلاق ، آداب زندگی، اصول، اخراجات اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ گھر میں اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش ہو، قرآن و حدیث کی تعلیم اور علماء کے خطابات خواتین کو بھی سنایا جائے۔ بیوی کی دینی تعلیم اور دین سے جوڑے رکھنا بزرگوں کی خدمت اور رشتہ داروں کے حقوق میں ضروری ہے۔ تنازعات کو آپس میں میاں بیوی حل کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ جناب اسرار علی اسحاق صاحب نے نوجوان کے اوقات اور اخلاق پر مخاطب کرتے ہوئے وقت کا صحیح استعمال نیز قابلیت اور صلاحیت کو مثبت کاموں میں لگانے پر زور دیا۔ علم کے ساتھ عمل بہت ضروری ہے، مرد کو قوام بنایا گیا مگر حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ مرد محافظ ہے نہ صرف بیوی کی بلکہ اپنی ماں، بہن بیٹی کا بھی۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری بورڈ نے اختتامی کلمات پیش کئے۔ انہوں نے اصلاح معاشرہ کمیٹی اور سوشل میڈیا ڈیسک کی کارکردگی سے واقف کروایا۔ شعبہ خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ (ویمنس ونگ) کی جانب سے دو روزہ بنت المسلم ورکشاپ 28 اور 29 اگست 2021 ہفتہ اتوار منعقد ہوا جس کے اختتام پر یہ یوتھ سیشن منعقد ہوا۔
محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ نے کہا کہ اولاد کی دینی تعلیم اور بیٹیوں کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکے لئے آن لائن، آف لائن اجلاس کے ساتھ ساتھ حلقہ خیر قائم کرنےاور کاؤنسلنگ سینٹرس کی ضرورت ہے۔ شعبہ خواتین کی تمام خواتین ریاستی اور ضلعی سطح پر ان کاموں کے لئے کوشاں ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button