آسام تشد واقعہ میں پی ایف آئی ملوث _ چیف منسٹر ہمنتا بیسوا شرما

نئی دہلی _ آسام کے چیف منسٹر ہمنتابیسوا شرما نے الزام لگایا ہے  دھولپور ضلع میں پیش آئے تشدد واقعہ میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) ملوث ہے اس انتہا پسند اسلام پسند گروپ کی وجہ  دھولپور ضلع میں پولیس پر حملوں کیے گئے۔انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے بہت سارے ثبوت موجود ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس واقعے میں کوئی مذہبی پہلو  نہیں ہے ۔ شہریوں پر پولیس کی فائرنگ کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر شروع سے ہی صورتحال دکھائی جاتی تو حقائق سامنے آ جاتے۔

چیف منسٹر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ مہینے پہلے ، ایک گروپ نے مقامی غریبوں سے 28 لاکھ روپے اکٹھے کیے اور انھیں تیقن دیا کہ حکومت کے ساتھ غیر قانونی طور پر قائم مکانات کو ہٹائے بغیر مذاکرات کیے جائیں۔ یہ گروپ  جو حکومت کی جانب سے غیرقانونی قبضے کی مہم کو روک نہیں سکا ، لوگوں کو اکسایا اور تباہی مچا دی۔ ہمارے پاس گڑ بڑ کرنے والے  چھ افراد کے نام ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ واقعہ سے ایک دن پہلے ، پی ایف آئی کے ارکان نے دھول پور کے علاقے میں کھانے کی اشیاء کی فراہمی کی آڑ میں دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کئی ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسام حکومت پہلے ہی مرکز کو ایک دستاویز پیش کرچکی ہے جس میں پی ایف آئی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

واضح رہے کہ آسام حکام کی جانب سے سرکاری مقامات پر غیر قانونی طور پر قائم رہائش گاہوں کو خالی کرنے کی خصوصی مہم جمعرات کو پرتشدد ہو گئی۔ ڈول پور گاؤں میں پولیس اور مقامی افراد میں شدید تصادم کا ماحول دیکھا گیا۔ پولیس کی فائرنگ سے دو شہری ہلاک ہو گئے۔ دس سے زائد دیگر زخمی ہوئے۔ ہیمنت بشوا شرما نے اس واقعے کے بعد جمعہ کو جواب دیا۔ دس ہزار سے زائد افراد نے پولیس کو روکنے اور ان پر حملے کئے ۔